144

چوہدری کی رہائی شیخ کی گرفتاری

لگتا ہے گرفتاریوں کا موسم شروع ہو چکا پولیس کو تحریک انصاف اور ان کے حمایتیوں کی گرفتاری کا خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے خاص کر ان آوازوں کو خاموش کروایا جا رہا ہے جو موثر ہیں اور کھل کر بات کرنا جانتے ہیں اب تو خواتین پر بھی غداری کے مقدمات بننا شروع ہو گئے ہیں فواد چوہدری نے تو جیل سے نکلتے ہی پھر دھماکہ کر دیا اور اس تاثر کو فوری طور پر زیرو کر دیا کہ ان کا سافٹ ویر اپ ڈیٹ ہو گیا ہے اب یا تو وہ خاموش ہو جائیں گے یا پھر لو پروفائل میں چلے جائیں گے لیکن انھوں نے تو باہر نکلتے ہی دبنگ قسم کی گفتگو کر کے پیغام دے دیا ہے جو کر سکتے ہو کرلو میں خاموش نہیں رہ سکتا فواد چوہدری کی رہائی کو ابھی چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ اسلام آباد پولیس نے شیخ رشید کو دھر لیا پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے تمام سرکردہ رہنما شیخ رشید سے بہت تنگ تھے لوگ ان کی بات سنتے ہیں اور وہ روز میڈیا پر حکومت کی کلاس لیتے تھے اوپر سے انھوں نے سوشل میڈیا آپریٹ کرنا بھی سیکھ لیا ہے روزانہ ان کی پوسٹوں کی دھوم مچی ہوتی تھی وہ حکمرانوں کو بہت کھٹک رہے تھے اس لیے انھیں گرفتار کرنا بھی بہت ضروری سمجھا جا رہا تھا اس کا اندازہ شیخ رشید کو پہلے ہی سے تھا لیکن فواد چوہدری اور شیخ رشید پر جس بنیاد پر مقدمے قائم کیے گئے وہ بنیاد بہت کمزور ہے البتہ شیخ رشید پر جو اس کے گھر سے اسلحہ ڈالا گیا ہے وہ انھیں ڈسٹرب کر سکتا ہے شیخ رشید پورے دنوں کا سیاستدان ہے اس نے اپنی گرفتاری کو بھی ایونٹ بنا لیا اور بھر پور سیاسی مجمع لگا کر گرفتاری دی بعد ازاں عدالت میں بھی انھوں نے اپنے سیاسی موقف کو خوب اجاگر کیا شیخ رشید کو بولنا آتا ہے حکومت نے اسے گرفتار کر کے اسے چھیڑ لیا ہے اسے کتنے دنوں تک گرفتار رکھا جا سکتا ہے آخر کار اس کی ضمانت ہو جائے گی اور پھر وہ ان کی پا پت اتارے گا اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا حکومت کی کوشش ہو گی شیخ رشید کی کسی حال میں بھی ضمانت نہ ہونے دی جائے فواد چوہدری اور شیخ رشید کے لیے عوامی ردعمل بھی کافی موثر نظر آ رہا ہے حکومت آہستہ آہستہ عمران خان کی گرفتاری کے لیے آگے بڑھ رہی ہے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع کر دی گئی ہیں تحریک انصاف کے حمائیتی صحافیوں کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے عمران ریاض کو گرفتار کر لیا گیا ہے چند ایک صحافیوں کے گھروں پر پولیس چکر لگا چکی ہے کئی ایک کو پیغام دلوا دیا گیا ہے باز آجاو ورنہ گرفتار کر لیے جاو گے معاملات بہت آگے نکل چکے ہیں حکومت سیاسی لڑائی کو بہت عروج پر لے گئی ہے وہ ایسے ہتھکنڈوں سے عمران خان کو جذباتی کر کے سڑکوں پر لانا چاہتی ہے کہ ان کو اتنا تنگ کر دیا جائے کہ عمران خان آخری حربے کے طور پر احتجاج کی طرف آکر سڑکوں پر نکل آئے اور پھر امن و امان کا ایشو بنا کر ان کے ساتھ سختی کی جائے انھیں ایسا خوفناک سبق سیکھایا جائے اتنا خوف وہراس پیدا کر دیا جائے کہ تحریک انصاف کے ورکرز اور ان کے حمایتی مایوس ہو کر گھروں میں بیٹھ جائیں تحریک انصاف پر یہ کڑا وقت ہے اور ان کی حکمت کا امتحان اب شروع ہو رہا ہے تحریک انصاف کو اب اپنے آپ کو بچا کر آگے بڑھنا ہے دراصل حکمرانوں کی دلی خواہش ہے کہ عمران خان کو کسی طرح گرفتار کیا جائے لیکن عوامی ردعمل کے خوف سے حوصلہ نہیں پڑ رہا گرفتاریاں کرکے چیک کیا جا رہا ہے کہ اگر عمران خان کو گرفتار کیا جاتا ہے تو کس قسم کا ردعمل آسکتا ہے بعض حلقے ان خدشات کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ پی ڈی ایم کو عوامی پذیرائی نہیں مل رہی اور نہ ہی وہ انتخابات میں جانے کا رسک لے سکتے ہیں اس لیے وہ ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ جمہوریت تعطل کا شکار ہو جائے اور پانچ چھ سال کے وقفہ کے بعد لوگوں میں تحریک انصاف کا بخار کم ہو جائے گا پھر ساری سیاسی جماعتوں کے لیے میدان ایک جیسا ہو گا دوسری جانب پولیس اور عدالتیں آج کل سیاسی گرفتاریوں اور سیاسی مقدمات میں مصروف ہیں پولیس سے امن و امان کی بحالی کا کام لیا جائے انھیں سیاسی معاملات کے لیے استعمال کر کے متنازعہ نہ بنایا جائے