113

برطانیہ میں بچوں کے ادیب

برطانیہ میں بچوں کی تعلیم و تربیت پر بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ انہیں ابتداء سے ہی وہ باتیں سکھائی جاتی ہیں جو آئندہ کی زندگی میں ان کے بہت کام آتی اور انہیں معاشرے کا ایک مفید فرد بناتی ہیں۔ یونائیٹڈ کنگڈم میں پرائمری تعلیم کا نصاب ایسا ہے جس میں تربیت کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔اس ملک کے ماہرین تعلیم کا خیال ہے کہ اگر بنیاد مستحکم ہوگی تو اس پر ہی پائیدار عمارت کی تعمیر ممکن ہے۔ ننھے پودوں کی صحیح دیکھ بھال اور نگہداشت ہی انہیں تناور اور مضبوط درخت بنا سکتی ہے۔ اہل مغرب کو بہت پہلے اس حقیقت کا ادراک ہو گیا تھا کہ بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت سے ہی مہذب قوم پروان چڑھ سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں جب دنیا کی ترقی پذیر اور پسماندہ قومیں تیز رفتار ٹیکنالوجی کے باعث کتابوں سے دور ہو رہی ہیں برطانیہ اور بہت سے خوشحال ملکوں میں بچوں کو کتابوں سے وابستہ رکھنے کے لیے خصوصی اہتمام کیے جاتے ہیں۔ خاص طور پر لندن کے پرائمری سکولوں کی لائبریری میں بچوں کی دلچسپی کی ہزاروں کتابیں دستیاب ہوتی ہیں۔ پرائمری سکولوں کے اساتذہ بھی کتابیں پڑھنے کے معاملے میں بچوں کی بہت حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ خوشگوار حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ میں بچوں کے لیے کتابیں لکھنے والے ادیبوں کی بھی کمی نہیں ہے۔پرائمری سکولز میں تعلیم کے دوران بچے جو کتابیں، کہانیاں اور نظمیں پڑھتے ہیں ان میں سے بہت سی تحریریں ان کے حافظے میں رہ جاتی اور زندگی بھر کے لیے بچپن کی یادوں کا حصہ بنی رہتی ہیں۔مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب پرائمری سکول میں پڑھتا تھا تو اس زمانے میں (نہر پہ چل رہی ہے پن چکی ۔ دھن کی پوری ہے کام کی پکی) یا پھر (ایک تھا تیتر ایک بٹیر ۔ لڑنے میں تھے دونوں شیر) اسی طرح (ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی ۔ خالہ اس کی لکڑی لائی) وغیرہ ایسی نظمیں تھیں جنہیں ہم بچے لہک لہک کر پڑھتے اور خوش رہتے تھے۔ اسی زمانے میں نونہال،بچوں کی دنیا، بچوں کا باغ، تعلیم و تربیت وغیرہ بچوں کے مقبول رسالے تھے۔روزنامہ اور ہفت روزہ اخبارات بچوں کے لیے خصوصی صفحات بڑے اہتمام سے شائع کرتے تھے۔ بہاولپور کے شاہی بازار میں کیپٹل نیوز ایجنسی اور نیشنل نیوز ایجنسی پر بچوں کے رسالوں کے تازہ شمارے دیکھ کر میری جو کیفیت ہوتی تھی وہ آج تک میرے لڑکپن کی یادوں کا حصہ ہے۔ ان دنوں میری عمر کے بچے عمران سیریز کے دیوانے تھے۔ اشتیاق احمد اور مظہر کلیم بہت مقبول مصنف تھے لیکن پھر آبادی کا بڑھتا ہوا سیلاب رفتہ رفتہ سب کچھ بہا کر لے گیا۔تعلیم کو کاروبار بنا دیا گیا تربیت کو صرف عربی میں قرآن پاک پڑھانے تک محدود کر دیا گیا۔ جس طرح ہمارے ملک کے حکمران اور ارباب اختیار قوم کے بچوں کی بنیادی اور پرائمری تعلیم و تربیت سے غافل ہو گئے اسی طرح ہمارے ادیبوں اور دانشوروں نے بھی بچوں کے لیے لکھنے کو غیر ضروری سمجھنا شروع کر دیا۔

گذشتہ نصف صدی کے دوران پاکستان کی آبادی میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے بچوں کا ادب تخلیق کرنے والے ادیبوں اور شاعروں کی تعداد بھی اسی تناسب سے بڑھنی چاہیے تھی مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ ہم وہ بد نصیب قوم یا عوام ہیں جو سب سے کم توجہ بچوں کی معیاری تعلیم و تربیت پر دیتے ہیں اور یہ توقع کرتے ہیں کہ ہم ایک باوقار، دیانتدار اور مستحکم قوم بنیں۔ یعنی ہم پنیری لگائے بغیر یہ امید کرتے ہیں کہ ہمیں گھنے اورسایہ دار درخت میسر آ جائیں۔ جس ملک میں ایک کروڑ سے زیادہ بچوں کو کبھی سکول جانے کا موقع ہی میسر نہ آیا ہو اور باقی جو بچے سکول جاتے ہیں وہاں انہیں کسی بھی قسم کی تربیت سے محروم رکھا جاتا ہو تو پھر اس ملک اور قوم کا خدا ہی حافظ ہوتا ہے۔ میں گذشتہ ہفتے شاندار براڈ کاسٹر اور ادیب رضا علی عابدی سے ملنے کے لیے گیا تو ان سے بچوں کے ادب پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے جنگ کراچی کے بھائی جان (شفیع عقیل) کے حوالے سے اپنی یادوں کو تازہ کیا اور بتایا کہ میں نے سب سے پہلے بچوں کی کہانیاں لکھنے سے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ رضا علی عابدی موجودہ دور میں اردو کے ان چند ادیبوں میں سے ہیں جنہوں نے نہ صرف بچوں کے لیے بھی بہت کچھ لکھا بلکہ اس سہل اور آسان زبان میں بچوں کی نفسیات کو پیش نظر رکھ کر لکھا کہ بڑے بھی ان کی تحریروں کو پڑھ کر داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ان کے لکھے ہوئے بچوں کے با تصویر قاعدے دلچسپی اور معلومات سے مزین ہیں۔ برطانیہ میں آج بھی بچوں کے انگریزی رسالے بڑی تعداد میں شائع ہوتے اور دلچسپی سے پڑھے اور خریدے جاتے ہیں۔ بہت سے رسالے ایسے بھی ہیں جن کے ساتھ بچوں کو مختلف طرح کے چھوٹے چھوٹے کھلونے اور سٹیکر شیٹس بھی مفت ملتی ہیں۔ ان رسالوں کو مختلف عمر کے بچوں کی دلچسپی کو پیش نظر رکھ کر ترتیب دیا جاتا ہے۔ بچوں کے یہ رسالے اور میگزین پورے ملک میں ہر نیوز ایجنٹ اور بڑے سٹورز پر دستیاب ہوتے ہیں۔ یونائیٹڈ کنگڈم کی مقامی لائبریریز میں آج بھی سب سے بڑی کتابوں کی سلیکشن بچوں کے لیے ہوتی ہے۔ والدین کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو باقاعدگی سے اپنے بچوں کو لائبریری لے کر جاتی اور ان کے لیے کتابیں جاری کرواتی ہے۔یہاں کی لائبریریز کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے کسی بھی ممبر کے مطالبے پر کوئی بھی نئی سے نئی کتاب منگوا کر اسے اپنی شیلف کی زینت بنا دیتی ہیں۔ برطانیہ میں بیڈ ٹائم سٹوریز کے نام سے بڑی تعداد میں ایسی کتابیں متواتر شائع ہوتی رہتی ہیں جنہیں اکثر مائیں خرید کر ان کی کہانیوں بلکہ دلچسپ کہانیوں کو سونے سے پہلے اپنے بچوں کو سناتی ہیں۔ اسی طرح نیشنل جیوگرافک کی بچوں کے لیے چھپنے والی کتابوں ویرڈ بٹ ٹرو (WEIRD BUT TRUE) کے سالانہ ایڈیشن بھی برطانیہ میں ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں۔یہ کتابیں دنیا بھر کے دلچسپ اور معلوماتی حقائق کا با تصویر مجموعہ ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کی کوئز بکس بھی برطانیہ میں بہت مقبول ہیں۔ برطانیہ میں سینکڑوں ادیب ایسے ہیں جو باقاعدگی سے بچوں کے لیے لکھتے ہیں۔اس ملک میں بچوں کے لیے ادب تخلیق کرنے والوں کو بڑا ادیب سمجھا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں آج کل کوئی بھی بڑا ادیب بچوں کے لیے کچھ لکھنے کو اپنے لیے شایان شان نہیں سمجھتا۔گذشتہ چند برسوں کے دوران معروف ڈرامہ نویس اور ادیب امجد جاوید کی کتابیں جی بوائے اور جی مشن بچوں کے اردو ادب میں اہم اضافہ ہیں جن کی مقبولیت سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بچوں کے لیے دلچسپ اور معیاری ادب کی ہمارے ہاں اب بھی بہت گنجائش موجود ہے۔لندن میں مجھے پاکستان سے آنے والے بہت سے سیاستدان اور مختلف سیاسی جماعتوں کے حامی ملتے رہتے ہیں اور اپنی اپنی پارٹی کے قائدین کی تعریف میں زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں۔ جب کبھی وہ مجھ سے اپنے پارٹی لیڈرز کے بارے میں رائے لینے پر اصرار کرتے ہیں تو میں ان کو صرف ایک ہی بات کہتا ہوں کہ صرف ایسا لیڈر ہی پاکستان سے مخلص کہلانے کا حقدار ہوگا جو اقتدار سنبھال کر پورے ملک میں پرائمری سطح پر یکساں نظام تعلیم نافذ کرے گا۔ ملک کے ہر حصے میں سرکاری پرائمری سکولز کا قیام یقینی بنائے گا (جہاں ہر بچے کے لیے پرائمری تعلیم و تربیت لازمی ہوگی)۔ پرائیویٹ اور مراعات یافتہ طبقے کے الگ سکولوں کا خاتمہ کرے گا۔ پرائمری تعلیم کے دوران بچوں کو ایسایکساں اور معیاری نصاب فراہم کرے گا جس کے ذریعے بچے انسانیت اور معاشرت کے بنیادی تقاضوں سے آگاہ ہوں اور انتہا پسندی اور عدم برداشت کے رویوں سے نجات پائیں۔ جو بھی لیڈر قوم کے بچوں کی تعلیم و تربیت کو اپنی پہلی ترجیح نہیں بنائے گا وہ ملک سے مخلص نہیں ہو سکتا۔ وہ صرف اقتدار پرست اور اختیارات کے حصول کا متمنی ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ برطانیہ سمیت جن ملکوں اور معاشروں نے بھی ترقی کی ہے انہوں نے سب سے پہلے اپنی قوم کی سوفیصد خواندگی کو یقینی بنانے کے لیے موثر حکمت عملی بنائی۔اپنے ملک کے ہر بچے کے لیے یکساں اور معیاری پرائمری تعلیم و تربیت کو یقینی بنایا۔دوہرے نظام تعلیم یا تعلیم کے نام پر کسی کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی۔ سب کے لیے سرکاری اور معیاری تعلیم و تربیت کو ہی لازمی قرار دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں ان پرائمری سکولوں سے تعلیم و تربیت یافتہ لوگ آگے چل کر ملک و قوم کے لیے کار آمد ثابت ہوئے۔ اگر پاکستان بھی ترقی اور خوشحالی کی منزل تک پہنچنا چاہتا ہے تو اسے بھی علم اور تعلیم و تربیت کا راستہ اپنانا ہوگا۔ خواندگی کی شرح کوسو فیصد کرنے کے لیے کوئی موثر پانچ یادس سالہ منصوبہ بنانا ہوگا۔

وقتی اور عارضی سیاسی فائدے یا دکھاوے کی بجائے دور اندیشی سے کام لینا ہوگا۔ علم، تعلیم اور تربیت کے بغیر کبھی کسی ملک کی پسماندگی اور بدحالی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ اگر پاکستان کے اصل حکمران اور ارباب اختیار واقعی پاکستان کی بقا اور ارتقاء کے خواہشمند ہیں اور پاکستان کو جہالت،انتہا پسندی، کرپشن اور بددیانتی کی دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں تو انہیں بنیادی پرائمری تعلیم و تربیت کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ ملک کے ہر اس بچے کو تعلیم و تربیت یافتہ کرنا ہوگا جو اس قوم کا مستقبل ہے۔اس ننھے پودے کی نگہداشت اور دیکھ بھال انتہائی ضروری اور لازمی ہے جس نے کل تناور درخت بننا ہے۔ اگر ہم نے ان ننھے پودوں کو حالات اور موسموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تو ہماری آنے والی نسلیں مشکلات کی کڑی دھوپ اور مسائل کے تپتے صحرا میں سائے کو ترستی رہیں گی۔

٭٭٭