دریا، ساحل اور جزیروں کے ہماری زندگیوں پر اثرات

لندن ایک سرسبز شہر ہے جو تین ہزار سے زیادہ پارکس PARKSاور سینکڑوں جھیلوں پر مشتمل ہے۔ یہ تمام پارکس اور جھیلیں انتہائی سلیقے سے بنائے گئے ہیں جن کی دیکھ بھال اور حفاظت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ پارکس میں ہزاروں اقسام کے درخت اور پودے برطانوی دارالحکومت میں رہنے والوں کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں اور اِن اشجار پر سینکڑوں طرح کے خوبصورت پرندوں کا بسیرا ہے۔ اِن پارکوں میں موجود شفاف جھیلوں میں راج ہنس (SWANS)سمیت رنگ برنگی بطخیں، مرغابیاں اور بہت سے آبی پرندے تیرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اِن جھیلوں کے کنارے پر پائیدار بینچ لگے ہوئے ہیں جہاں بیٹھ کر لوگ جھیل کا نظارہ کر سکتے ہیں، ہر پارک میں ٹہلنے اور جاگنگ کے لئے پختہ ٹریک بنائے گئے ہیں۔ انگریزوں کی ایک بڑی تعداد اپنے کتوں کو ٹہلانے کے لئے صبح سویرے پارکوں میں لے جاتی ہے۔صبح کی اس سیر کے دوران اگر کوئی کتا اپنیحاجت رفعکر دے تو اس کا مالک یا مالکن فوراً ایک پلاسٹک کا لفافہ جیب سے نکال کر اس غلاظت کو اس میں لپیٹ کر پارک میں رکھے گئے مخصوص ڈسٹ بن میں ڈال دیتے ہیں۔لندن کے اِن پارکس میں بہت سے پارک ایسے ہیں جو سینکڑوں برس قدیم ہیں لیکن اِن کی دیکھ بھال اس عمدہ طریقے سے کی جاتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اِن کی کشش اور رعنائی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ لندن میں جب بھی موسم خوشگوار یا گرم ہو تو لوگوں کی اکثریت پارکوں کا رخ کرتی ہے جبکہ اس شہر میں آباد بہت سے لوگ قریبی ساحلوں کی طرف رختِ سفر باندھ لیتے ہیں۔ اِن میں سے سب سے زیادہ مقبول ساحل سمندر برائین بیچ ہے جو کہ وسطی لندن سے ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ ویسے تو برطانیہ ایک جزیرہ ہے جس کے چاروں طرف سمندری ساحل ہیں۔ اس ملک کے ساحلی شہروں میں نیوکے کارنیوال، ایسٹ بورن، وٹبی (نارتھ یارکشائر)، براڈ سٹیئرز(کینٹ)، بورن متھ، بیری آئی لینڈ(ساؤتھ ویلز)، سیل کومب(ڈیون)، بلیک پول اور گریٹ یا متھ وغیرہ سیاحوں کے لئے بہت پرکشش مقامات ہیں، انگریز جب بھی چھٹیاں گزارنے کے لئے ملک سے باہر جاتے ہیں تو خوشگوار موسم اور ساحل سمندر اُن کے لئے سب سے زیادہ کشش رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ سیاح اُن شہروں میں جانے کو ترجیح دیتے ہیں جہاں کے ساحل صاف ستھرے ہیں اور جہاں ضرورت کی ہر سہولت انہیں میسر آتی ہے۔

یورپ میں سب سے زیادہ صاف ستھرے اور پُرکشش ساحل سپین، یونان اور اٹلی میں ہیں۔ اِن ملکوں میں بہت سے جزیرے ایسے ہیں جہاں انسانوں کی آمدورفت بہت محدود ہے اور اس آمد ورفت کو اس لئے بھی محدود رکھا گیا ہے تاکہ ان جزیروں اور اُن کے ساحلوں کی خوبصورتی اور قدرتی حسن برقرار رہے۔ خوش قسمتی سے مجھے بھی چند ایسے جزیروں اور ساحلوں کی سیاحت کا موقع ملا ہے۔ گذشتہ برس میں یونان کے ایک جزیرے کیفالونیا گیا جہاں چند روز قیام کے بعد مجھے ایسے لگا کہ زندگی کی بھاگ دوڑ کے لئے مجھے پھر سے توانائی میسر آ گئی ہے۔سکون اور طمانیت کی جو کیفیت یہاں آ کر نصیب ہوئی اُسے بیان نہیں صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا جزیرہ ہے جس کے ہر طرف تاحدّ ِ نظر نیلا سمندر ہے جس کا شفاف پانی کہیں پہاڑی چٹانوں سے ٹکراتا ہے تو کہیں اس کی لہریں ساحل کی سفید ریت میں آ کر جذب ہو جاتی ہیں۔ اس جزیرے پر نباتات اور پرندوں کی بہتات ہے۔ پھل دار درختوں خاص طور پر خوبانی، انجیر، زیتون، آلوبخارے، بادام، شہتوت اور لوکاٹ کے پیڑ ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں۔ انواع و اقسام کے جنگلی پھولوں اور پودوں کی وجہ سے یہ جزیرہ بہت سرسبز اور خوشنما ہے۔ میں اس جزیرے کے ایک پہاڑ پر جس آرام دہ اپارٹ منٹ میں مقیم رہا اس کی کھڑکی سے سمندر اور جنگل صاف نظر آتا تھا۔ میرے کمرے کے باہر فائر الارم پر ایک ابابیل نے گھونسلہ بنا رکھا تھا جہاں سے اس کے ننھے بچوں کے چہکنے کی آوازیں آتی رہتی تھیں۔ ایسی شاندار پُرفضا اور پرسکون جگہ کو دیکھنے اور چند روز یہاں قیام کرنے کے بعد واقعی یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ دنیا بہت خوبصورت ہے اورظالم کافروںنے اسے مزید خوبصورت اور آرام دہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ غیر مسلموں کو خالقِ کائنات نے جن قدرتی نعمتوں سے نوازا ہے۔انہوں نے اِن نعمتوں سے استفادہ کرنے اور انہیں مزید سنوارنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے جبکہ مسلمانوں اور غیر تعلیم یافتہ اقوام کو جو قدرتی وسائل حاصل ہیں انہوں نے انہیں بگاڑنے اور اجاڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ مجھے لندن میں رہائش پذیر ہونے کے بعد کچھ ممالک میں بار بار جانے کا موقع ملا ہے مثلاً جرمنی اور ڈنمارک دو ایسے ملک ہیں جہاں ہر بار جانے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہاں لوگوں کے لئے سہولتوں اور آسانیوں میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ میں نے پہلے بھی ایک بار اس حقیقت کی نشاندہی کی تھی کہ یورپی ممالک کے بہت سے بڑے شہر دریاؤں کے کنارے آباد ہیں جن میں لندن بھی شامل ہے۔ ترقی یافتہ اقوام نے اپنے اِن دریاؤں کے کناروں کو اس شاندار طریقے سے سجایا اور سنواراہے کہ دنیا بھر سے لوگ ان شہروں کی سیر کے لئے ان ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ لندن دریائے تھیمز کے کنارے آباد ہے۔ اس دریا کے کنارے پر شاندار تاریخی عمارات اس شہر کے وقار میں اضافہ کرتی ہیں، یہ دریا شہر کے وسط سے گزرتا ہے اور اس پر تعمیر کئے گئے قدیم اور جدید پُل سیاحوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ دریائے تھیمز کے کنارے پر بنائے گئے شاندار ہوٹل اور لندن آئی بھی اس شہر کی کشش میں اضافے کا باعث ہیں۔ یہ دریا لندن شہر کی شان ہے اور اس دریا کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لئے ایک خصوصی سکیورٹی فورس اور پولیس اپنی مخصوص موٹر بوٹس میں اس کے مٹیالے پانی میں گشت پر رہتی ہے۔دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ملکوں کی طرح برطانیہ کے ساحلی شہروں کو پرکشش اور شاندار بنانے کے لئے ہر طرح کے وسائل کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ بورن متھ، پورٹس متھ اور گریٹ یارمتھ کے علاؤہ دیگر کئی ساحلی شہروں میں کیراوان(کارواں) ہالیڈے ہومز بنائے گئے ہیں یعنی ساحلِ سمندر کا ایک حصہ ایسے موبائل گھروں کے لئے مختص کیا گیا ہے جس کے نیچے ٹائر لگے ہوتے ہیں اور جنہیں بوقت ضرورت کسی ٹرک کے پیچھے باندھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جا سکتا ہے۔ مجھے دو بار اِ ن ساحلی رہائش گاہوں میں چند روز کے لئے ٹھہرنے کا موقع ملا ہے، دو یا تین کمروں، کچن، ٹوائلٹ/باتھ روم اور ٹی وی /ڈرائینگ روم پر مشتمل یہ موبائل گھر اس قدر آرام دہ اور پرتعیش ہوتے ہیں کہ اِن میں قیام اور ہر وقت ساحل کے نظاروں اور ساحلی ہواؤں کے ترنم سے طبیعت سرشار اور ہشاش بشاش ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز لوگوں کی اکثریت گہما گہمی اور پُررونق مقامات کی بجائے پُرسکون اور فطری حسن سے مزین جگہوں پر چھٹیاں گزارنے کو ترجیح دیتی ہے۔ جزیرے، ساحل، دریا اور جنگل مجھے ہمیشہ سے اچھے لگتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ مغربی پاکستان کے لوگ، ساحلوں اور دریاؤں کے نظارے کرنے کے لئے مشرقی پاکستان جایا کرتے تھے لیکن پھر ہماری سرزمین کے لوگ کفرانِ نعمت کرنے لگے اور ناصر کاظمی حالات کی ستم ظریفی پر یہ استفسار کرتے رہے

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے

وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے

باقی ماندہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو کراچی سے گوادر تک اب بھی خوبصورت ساحل میسر ہیں، ہمالیہ سے سندھ تک کئی دریاؤں کے پانی کی نعمت پاکستان کو حاصل ہے مگر ہمارے ساحلوں پر نہ تو عام لوگوں کو کوئی سہولت میسر ہے اور نہ ہی اُن کے فطری حسن کو برقرار رکھنے یا اُن میں اضافہ کرنے کے لئے کبھی کوئی کوشش کی گئی ہے۔ ہمارے دریا یا تو خشک ہو کر ندی نالوں کی طرح بہتے ہیں یا پھر اُن میں آنے والے سیلاب تباہی و بربادی کا سندیسہ لے کر آتے ہیں۔ ہم اپنے دریاؤں کی گزرگاہوں کا خیال رکھنے یا اُن کے کناروں پر شاندار شہر بسانے کی بجائے اِن کے ٹھہرے ہوئے پانی کے اطراف سے ریت نکالنے، ان میں صدقے کا گوشت پھینکنے اور جادو ٹونے کے تعویز بہانے کو زیادہ مفید اور ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم قدرت کی طرف سے دی جانے والی نعمتوں کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں قدرت ہمارے ساتھ جو سلوک کرتی ہے لگتا ہے کہ ہم اسی ردِعمل کے مستحق ہیں۔ آپ کا کیا خیا ل ہے؟

٭٭٭