160

الیکشن کا دباؤ

دوپہلوانوں میں کشتی ہو رہی تھی ایک پہلوان جو ذرا کمزور تھا اس نے ٹھبی مار کر اپنے سے طاقتور پہلوان کو نیچے گرا لیا اور اس کی چھاتی پر بیٹھ گیا اور اوپر بیٹھا ہوا روئے جا رہا ہے کسی نے پوچھا تو نے کشتی جیت لی ہے مخالف کو گرا لیا ہے اس کے اوپر بیٹھا ہوا ہے پھر کیوں رو رہا ہے اس نے جواب دیا جب یہ نیچے سے اٹھے گا تو اس نے مجھے بڑا مارنا ہے یہی حال پی ڈی ایم کی حکومت کا ہے اقتدار پر بیٹھے ہیں لیکن خوفزدہ ہیں کہ اگر الیکشن ہو گیا تو ہمارا کیا بنے گا عمران خان جب اوپر آئے گا تو اس نے ہمیں بڑا مارنا ہے یہ خوف انھیں کھائے جا رہا ہے اور اسی خوف کی وجہ سے وہ سب اصول ضابطے آئین اخلاقیات قانون سب کچھ بالاطاق رکھ کر کوشش کر رہے ہیں جتنا وقت گزر جائے اتنا ہی بہتر ہے پتہ نہیں کل کو کیا ہونا ہے ہر حکومتی رکن دن رات ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کے چکروں میں ہے اور اصلی والی بارودی سرنگیں بچھائی جا رہی ہیں ان کو نظر آرہا ہے کہ آئیندہ اقتدار انھیں ملنے والا نہیں اس لیے وہ آنے والوں کے لیے ایسے گھڑے کھود رہے ہیں کہ وہ کسی صورت بھی معاملات نہ چلا پائیں دوسری طرف الیکشن سے راہ فرار کے سارے راستے معدود ہوتے جا رہے ہیں حکومت بری طرح پھنس چکی ہے اب سارے راستے انتخابات کی طرف جا رہے ہیں اب حکومت نے فیصلہ کرنا ہے کہ انھوں نے دو صوبوں کا الیکشن پہلے لڑنا ہے یا ایک ہی دفعہ جنرل الیکشن میں جانا ہے صدر مملکت نے الیکشن کی تاریخ دے کر حکومت کو پھنسا لیا ہے اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد 90 روز میں ہر صورت الیکشن کروانا آئینی قدغن ہے اور الیکشن نہ کروانے کی ایک ہی راہ نکل سکتی ہے کہ آئین معطل کر کے مارشل لاء لگا دیا جائے ویسے اس وقت حکومت کی پوری کوشش ہے کہ حالات کو اتنا خراب کر دیا جائے کہ کسی نہ کسی کو مداخلت کرنا پڑ جائے ابھی جو عدالتوں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے حکومت اور پی ڈی ایم کی ساری جماعتیں عدالتوں پر نان سٹاپ تنقید کر رہی ہیں اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ اب عدالتیں آئین پر عملدرآمد کروانے کے لیے ایکشن لیں گی عدالتوں کی موجودگی میں آئین سے روگردانی نہیں ہو سکتی یا تو عدالتوں کو بھی ختم کر دیا جائے پی سی او نافذ ہو ایسا ہونا ممکن نہیں اس لیے انتخابات کے سوا کوئی راستہ نہیں چیرمین نیب آفتاب سلطان کے استعفے سے بہت ساری چیزیں عیاں ہو چکی ہیں آفتاب سلطان میاں نواز شریف کا سب سے قابل اعتماد آدمی تھا حکومت نے کس قدر اسے اپنی مرضی کے فیصلوں پر مجبور کیا ہو گا کہ اس نے مستعفی ہونے میں عافیت سمجھی ان کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی ساری پی ٹی آئی کو طلبی کے نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں چیف الیکشن کمشنر کا بھی ایسا ہی معاملہ ہے اب وہ بھی حکومتی خواہش کی پاسداری کے لیے زیادہ دیر نہیں ٹھر سکتے انھیں یا تو الیکشن کروانے پڑیں گے یا استعفی دینا پڑے گا اب تو نگران بھی بیزار ہو رہے ہیں خیبر پختون خواہ میں گورنر علی محمد اپنے چمڑے کے سکے چلائی جا رہا ہے وہ بیک وقت گورنر بھی ہیں اور وزیر اعلی بھی وہ کلرک سے لے کر آئی جی تک ہر جگہ پر اپنے من پسند افراد کو بٹھانا چاہتا ہے اور نگران وزیر اعلی بیچارا شریف آدمی اس کو نکرے لگایا ہوا ہے اعظم خان بھی سنجیدگی کے ساتھ مستعفی ہونے بارے سوچ رہا ہے حکومت تحریک انصاف کو دبانے کے لیے اداروں کو جس حد تک استعمال کر رہی ہے اب اداروں کے اندر بھی چہ میگوئیاں شروع ہو گئی ہیں کہ سب کچھ کھوہ کھاتے ڈال کر من مرضی کی کارروائیاں نہیں ہو سکتیں کچھ نہ کچھ قانون اور قواعد وضوابط کے مطابق کر لیں سرے سے ہی غیر قانونی طریقوں سے اداروں کو استعمال نہ کریں خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ اداروں کے اعلی افسران کہیں حکومتی احکامات کو ماننے سے انکار نہ کر دیں اگر ایک دو استعفے اور آگئے تو معاملات حکومت کے ہاتھ سے مکمل طور پر نکل جائیں گے ابھی قومی اسمبلی میں جو غیر قانونی منی بجٹ پاس ہوا ہے اس کو صرف ہاوس میں موجود 61 لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے اس کا مطلب ہے کہ قومی اسمبلی میں موجود حکومتی اراکین کی اکثریت نے بھی اسے مسترد کر دیا ہے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے آخری حربے کے طور پر جیل بھرو تحریک شروع کر دی ہے انھوں نے موثر احتجاج کی بنیاد رکھ دی ہے مہنگائی کے مارے عوام بھی حکومت کے خلاف باہر نکلنے کو تیار ہیں جماعت اسلامی بھی مہنگائی کے خلاف احتجاج کر رہی ہے تحریک لبیک والے بھی پیر سے شٹر ڈاون ہڑتال کروا رہے ہیں آپ کو تو پتہ ہے تحریک لبیک کو اپنا احتجاج کامیاب کروانا آتا ہے یہ سب چیزیں جب ڈویلپ ہوں گی تو کیا منظر نامہ بنے گا حکومت کیا کرے گی اب حکومت کے پاس الیکشن میں جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں حکومت شدید دباو میں آچکی ہے آنے والے چند روز فیصلہ کن ہوں گے۔