اردو بولنے والے انگریز

غیر ملکی زبانیں سیکھنے کے معاملے میں انگریزوں کی دلچسپی دیگر اقوام کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ برطانیہ کے پرائمری اور سیکنڈری سکولوں کے بچوں کو ایک غیر ملکی زبان سیکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔بچوں کی اکثریت سپینش، فرانسیسی، جرمن، پولش یا کوئی اور زبان سیکھنے کو ترجیح دیتی ہے۔ طالبعلموں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہوتی ہے جو اردو سیکھنے میں دلچسپی لیتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ اردو کو برطانیہ کے تعلیمی نصاب میں ایک جدید زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اس لئے سکول کے طالبعلموں کے لئے اردو کا ایک غیر ملکی زبان کے طور پر انتخاب اور اسے سیکھنا اور زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد انگلستان آنے والے سفید فام اردو زبان بولنے اور سمجھنے کی اہلیت رکھتے تھے یا ایسے انگریز جنہیں برصغیر کی تہذیب و ثقافت یا تاریخ میں دلچسپی ہوتی تھی تو وہ اردو زبان سیکھنے کو ترجیح دیتے تھے یا پھر جن کا تعلق 1800میں کلکتہ میں قائم ہونے والے فورٹ ولیم کالج سے رہا تھا وہ انگریز بھی اردو زبان و ادب سے بہت لگاؤ رکھتے تھے۔ ایسے مستشرقین میں لندن کی تین شخصیات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ یہ تین شخصیات پروفیسر رالف رسل، ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز اور ڈاکٹر کرسٹوفر شیکل ہیں۔ رالف رسل بہت نفیس اور شاندار انسان تھے۔ وہ پہلے انگریز تھے جنہوں نے اردو زبان سیکھ کر نہ صرف اردو کی کلاسیکی شاعری پر تحقیق کی بلکہ اردو زبان کی تدریس میں بھی سرگرم رہے۔ انہیں اردو زبان سے دلچسپی اس وقت ہوئی جب وہ برطانوی فوج میں بھرتی ہوئے اور انہیں مارچ 1942ء میں ہندوستان بھیج دیا گیا۔ اُس زمانے میں انڈین آرمی کی آپس میں رابطے کی زبان اردو تھی چنانچہ رالف رسل کے لئے اردو زبان سیکھنا ناگزیر ہو گیا۔انہوں نے ساڑھے تین برس کے عرصے میں اردو بولنے اور پڑھنے لکھنے میں مہارت حاصل کر لی۔ واپس برطانیہ آنے کے بعد انہوں نے فوج کی ملازمت سے چھٹکارہ حاصل کر کے اردو زبان میں مزید مہارت کے لئے لندن یونیورسٹی کے سکول آف اورینٹل اینڈ ایفریکن سٹڈیز میں داخلہ لیا تاکہ اردو میں بے اے آنرز کی ڈگری حاصل کر سکیں۔ بعد ازاں وہ اسی ادارے میں اردو کے لیکچرر مقرر ہو گئے اور پھر ایک سال کے لئے علی گڑھ یونیورسٹی اور دیگر اداروں میں اردو زبان کی درس و تدریس کے مشاہدے اور مطالعے کے لئے ہندوستان گئے جہاں سے واپس آنے کے بعد وہ 1981ء میں اپنی ریٹائرمنٹ تک اسی ادارے سے وابستہ رہے۔ رالف رسل کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی تقسیم سے پہلے جو اساتذہ (منشی)فوج میں انگریزوں کو اردو پڑھانے کے لئے مقرر تھے وہ بہت ذہین لوگ تھے وہ غیر ملکیوں کو اس طرح زبان سکھاتے اور پڑھاتے تھے جس طرح بچوں کو بولنا اور پڑھنا سکھایا جاتا ہے۔ اردو کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ اس کی گفتگو اور تحریر کی زبان میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ یعنی اردو زبان جس طرح بولی جاتی ہے اسی طرح لکھی جاتی ہے۔البتہ ادبی زبان کا معاملہ ذرا سا مختلف ہے۔ اس کے علاؤہ اردو زبان کی دوسری بڑی خوبی اس کی کلاسیکی شاعری ہے جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ ایک ملاقات میں ڈاکٹر رالف رسل سے میں نے پوچھا کہ سکول آف اورینٹل اینڈ ایفریکن سٹڈیز نے اردو زبان کے فروغ میں کیا کردار ادا کیا تو وہ کہنے لگے کہ جب میں (SOAS)کاطالبعلم تھا اس وقت تک علامہ اقبال اردو کے سلیبس میں شامل نہیں تھے اور پھر جب میں یہاں استاد مقرر ہوا تو پھر اقبال کے علاوہ فیض، جوش اور علی سردار جعفری کی شاعری کو نصاب میں شامل کیا گیا۔میری بڑی خواہش تھی کہ اس ادارے میں اردو کے بے اے آنرز کے علاؤہ ایسے مختصر مدت کے کورسز بھی شروع کئے جائیں جو اُن غیر ملکیوں کے لئے ہوں جو اردو بول چال سیکھنا چاہتے ہوں۔ غالب اور اقبال کا موازنہ کرتے ہوئے پروفیسر رالف رسل نے کہا کہ جب مجھے اردو زبان اور شاعری کا ادراک ہوا تو غالب اور اقبال کا کلام مجھے پسند آنے لگا۔ غالب میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔ اقبال کے کلام کا منفی پہلو یہ ہے کہ انہوں نے ہر مرحلے پر صرف مسلمانوں کی تعریف کی ہے مثلاً نادر شاہ نے دہلی میں ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا مگر اقبال نے اُن کی بھی تعریف کی۔ نادر شاہ اقبال کے فلسفے کے مطابق مردِ مومن کہلانے کے ہر گز مستحق نہیں تھے۔ اقبال اور میر کے مقابلے میں غالب کی نظر زیادہ وسیع تھی۔ اُن کی شاعری کا منظر نامہ پوری کائنات ہے وہ آفاقی شاعر ہیں۔ مجھے اُن کی انسان دوستی بہت متاثر کرتی ہے۔

رالف رسل نے ایک بار مجھے بتایا کہ جدہ سے اردو کی ایک تنظیم نے مجھے اردو کی بین الاقوامی کانفرنس کے لئے دعوت دی۔ دعوت نامے کے ساتھ مجھے سفر اور دس دِن قیام کے اخراجات دینے کی بھی پیشکش کی گئی تھی۔ میں نے اس دعوت کے جواب میں لکھا کہ آپ مجھے میرے سفر اور دس دِن قیام کے اخراجات کی رقم بھجوا دیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس رقم کی ایک ایک پائی برطانیہ میں اردو کی خدمت پر صرف کروں گا، مگر اس کانفرنس کے منتظمین نے میرے اس جواب کے بعد مجھ سے رابطے کی زحمت نہ کی۔ اسی طرح کینیڈا اور دیگر ممالک میں بھی اردو کے فروغ کے لئے جو حکومتی امداد یا فنڈز ملتے ہیں وہاں بھی اردو کی علمبردار تنظیمیں اس رقم کو تقریبات اور ایوارڈز کی تقسیم پر ضائع کر دیتی ہیں۔ پروفیسر رالف رسل نے کئی کتابیں لکھیں۔ وہ اردو کے سچے عاشق تھے۔ اُن کی بڑی خواہش تھی کہ غیر ملکی لوگوں کے لئے اردو زبان کا سادہ نصاب ترتیب دیا جائے۔ اُن لوگوں کو اردو پڑھائی اور سکھائی جائے جو مجبوراً نہیں بلکہ ذوق و شوق سے اردو زبان سیکھنے کے خواہشمند ہوں۔ کمیونسٹ نظریات رکھنے والے پروفیسر رالف رسل 21مئی 1918ء کو برطانیہ میں پیدا ہوئے تھے اور 14ستمبر 2008ء میں انتقال کر گئے۔ انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے ستارہ امتیاز بھی دیا گیا۔انہوں نے اپنی ساری زندگی برطانیہ میں اردو زبان کی تدریس اور فروغ کے لئے وقف کی ہوئی تھی۔لندن میں اردو کے ایک اور قدردان اور عاشق ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز تھے۔ اُن سے میری درجنوں ملاقاتیں ہوئیں اور ماریشیس میں ہونے والی اردو کانفرنس میں مجھے اُن کے ساتھ کئی روز تبادلہ خیا ل کا موقع ملتا رہا۔ 1942ء میں جنم لینے والے ڈیوڈ میتھیوز سینٹ جونز کالج کیمبرج یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ تھے۔ وہ ایک ایسے ماہر لسانیات تھے جنہوں نے یونانی اور لاطینی زبانیں سیکھیں۔ جب وہ کیمبرج یونیورسٹی میں مشرقی علوم کے شعبے میں کام کر رہے تھے تو انہیں عربی زبان سیکھنے میں دلچسپی ہوئی۔ اس زمانے میں سندھ یونیورسٹی کے اسد اللہ شاہ حسینی کیمبرج یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔ انہی دنوں ذوالفقار ملک بھی کیمبرج میں زیر تعلیم تھے۔ اِن دونوں شخصیات سے رابطے اور تعلق کی وجہ سے ڈیوڈ میتھیوز کو اردو زبان سے واقفیت ہوئی۔ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد انہیں ایک اسائنمنٹ کے سلسلے میں ہندوستان جانے کا موقع ملا جہاں انہوں نے برصغیر کی مختلف زبانوں کی صوتیات کو سیکھا اور اُن پر تحقیق کی۔ لندن میں اُن کی ملاقات پروفیسر رالف رسل سے ہوئی تو انہیں اردو پڑھنے اور سیکھنے کی ترغیب ملی جس کے بعد وہ پاکستان اور ہندوستان گئے۔ وہاں قیام پذیر رہے تاکہ اردو زبان کی بول چال اور باریکیوں کو سمجھ سکیں۔ جب وہ عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد دکن میں اپنے تحقیقی کام کے لئے رہائش پذیر تھے تو وہاں اُن کی ملاقات ایک روسی خاتون سے ہوئی جن سے معاشقے کے بعد یہ تعلق شادی پر منتج ہوا اور پھر ڈیوڈ میتھیوز نے روسی زبان کی بول چال میں بھی مہارت حاصل کر لی۔ ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز کو اردو کی کلاسیکی شاعری سے بہت دلچسپی تھی۔انہوں نے میرا نیس اور علامہ اقبال کی شاعری کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ وہ علامہ اقبال کو بین الاقوامی شاعر نہیں مانتے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ مغربی ادبی اور تعلیمی ادارے شاعر مشرق کے نام تک سے واقف نہیں ہیں۔ ڈیوڈ میتھیوز کہتے تھے کہ اردو کا رسم الخط ہی اس کی اصل پہچان ہے۔ جو لوگ اردو کو رومن رسم الخط میں لکھنے کے حامی ہیں وہ اس زبان کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز تقریباً 30برس اردو زبان کی تدریس سے وابستہ رہے۔ وہ نیپالی زبان کے علاؤہ دیگر کئی زبانوں کو بولنے اور سمجھنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ وہ 5مارچ 2021ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے اور اپنے پیچھے اردو زبان کے قدردانوں کے لئے درجنوں کتابیں اور تحقیقی مقالے چھوڑ گئے۔ کرسٹوفر شیکل لندن یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔ 4مارچ 1942ء میں پیدا ہونے والے کرسٹوفر شیکل نے 1963ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور 1969ء میں لندن یونیورسٹی کے سکول آف اورینٹل اینڈ ایفریکن سٹڈیز (SOAS)میں لیکچرر مقرر ہوئے جہاں انہوں نے دس برس تک اردو اور پنجابی پڑھائی۔ 1979ء میں وہ بربک کالج میں ساؤتھ ایشیا کی جدید زبانوں کے شعبے سے وابستہ ہوئے اور 1985ء میں پروفیسر ہو کر دوبارہ (SOAS) میں آ گئے۔ اُن کو سرائیکی زبان سے خصوصی دلچسپی تھی۔ مہر عبد الحق نے اس سلسلے میں اُن کی بہت مدد کی اور انہیں خواجہ غلام فرید کی شاعری سے روشناس کرایا۔ کرسٹوفر شیکل نے بلھے شاہ کی شاعری کا انگریزی میں ترجمہ کیا جسے ہاورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا۔حکومت پاکستان نے انہیں 2004ء میں ستارہِ امتیاز عطا کیا اور رائل ایشیا ٹک سوسائٹی نے 2006ء میں انہیں ایوارڈ دیا۔ انہوں نے کئی بار پاکستان کا دورہ کیا۔ پنجاب کے لوگ ایک انگریز کو روانی سے پنجابی اور سرائیکی بولتے دیکھ کر حیران ہوتے تھے۔ صرف مذکورہ بالا 3مستشرقین ہی نہیں برطانیہ اور یورپ میں درجنوں ماہر لسانیات اور غیر ملکی زبانوں سے دلچسپی رکھنے والے لوگ ایسے ہیں جو اردو کے علاؤہ ہماری علاقائی زبانیں (جنہیں میں قومی زبانیں کہتا ہوں) سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم خود اپنی قومی اور ملکی زبانوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور کسی نفسیاتی احساسِ کمتری کے باعث انگریزی کو اعلیٰ و ارفع اور تعلیم یافتہ ہونے کی دلیل سمجھنے لگے ہیں۔ یورپی ممالک کے لوگ اس لئے انگریزی نہیں بولتے یا انگریزی نہیں پڑھتے کہ اُ ن کے خیال میں اُن کے ملک کی اپنی ایک زبان ہے۔ وہ گونگے نہیں ہیں جو بات سہولت کے ساتھ اپنی مادری یا ملکی زبان میں کی جا سکتی ہے اُسے دشواری کے ساتھ انگریزی میں کہنے یا بیان کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ کا کیا خیال ہے؟

٭٭٭٭٭٭