گورکھ دھندا

کچھ سمجھ نہ آئے خدا کرے والا معاملہ ہے کوئی پتہ نہیں چلتا کون کس کے ساتھ ہے آج کے وفادار اگلے ہی روز بے وفا ہو جاتے ہیں رات کو جو ملک وقوم کے وسیع تر مفاد میں ہوتا ہے دن چڑھتے ہی وہ ملک دشمنی میں بدل جاتا ہے چند ماہ پہلے جو محب وطن ہوتے ہیں وہ اچانک غدار ہو جاتے ہیں اور جو غدار قرار دیے جاتے ہیں وہ پتہ چلتا ہے محب وطن نکلے ہیں ابھی عوام ایک بات پر اعتماد کر نہیں پاتے وہ اپنا مائینڈ بنا رہے ہوتے ہیں کہ اچانک بیانیہ بدل جاتا ہے لوگ نئی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو اتنی دیر میں پھر کوئی نیا چن چڑھا ہوتا ہے عوام کس کی بات پر یقین کریں اور کس کی بات کو رد کریں کون جھوٹا ہے کون سچا ہے اس میں تمیز کرنامشکل ہی نہیں ناممکن سا ہو گیا ہے جس طرح یہ پتہ نہیں چل رہا کہ ملک وقوم کے مفاد میں کیا بہتر ہے کیا نہیں اسی طرح کنفویژ خبروں کا بھی سیلاب آیا ہوا ہے کچھ پتہ نہیں چلتا کون سی خبر سچی ہے کون سی جھوٹی ہے کس تجزیہ نگار کی بات پر یقین کیا جائے کس کی بات کو اگنور کر دیا جائے میڈیا کا کونسا ادارہ حق پر ہے کون ڈی ٹریک ہو چکا کون قومی خدمت کر رہا ہے اور کون اپنے مفاد کے لیے کھیل رہا ہے کل جن تجزیہ نگاروں اینکر پرسنز کو ملک دشمن قرار دے کر ان کے خلاف مقدمات قائم کیے جا رہے تھے ان پر پروگرام کرنے پر پابندی تھی اچانک پتہ چلتا ہے کہ سب کچھ بدل چکا ہے ان کے پروگرام بھی دوبارہ شروع ہو جاتے ہیں ان کے کیس بھی کھوہ کھاتے چلے جاتے ہیں اور ان کی باتیں بھی بدل جاتی ہیں جونہی منظر نامہ تبدیل ہوتا ہے تو جو لوگ تنقید کر رہے ہوتے تھے اب ان پر تنقید ہو رہی ہوتی ہے اچانک ان کی باری شروع ہوجاتی ہے ان پر لعن طعن کا سلسلہ چل نکلتا ہے اب ان پر مقدمات کی باری ہے پچھلے دور میں جن میڈیا ہاوسز پر برے دن آئے ہوئے تھے آج کل ان کی موجیں لگی ہوئی ہیں اور جو پچھلے دور میں موجیں کر رہے تھے آج کل وہ امتحان سے گزر رہے ہیں کبھی جماعت اسلامی بی ٹیم ہوا کرتی تھی پھر چوبرجی کے پاس رہنے والے آنکھ کا تارا ہوا کرتے تھے اب کہیں نظر نہیں آتے کبھی طاہر القادری بھی بڑے کام کے بندے تھے آج کل چپ کے روزے سے ہیں ایک وقت تھا جب لوگ ریاست پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کرلیتے تھے اور اسی کو سچ سمجھا جاتا تھا جس کا اشارہ ادھر سے ہوتا تھا پھر نہ جانے کیوں اور کس نے ابہام پیدا کرنے شروع کر دیے۔

پہلے پیپلزپارٹی نے لوگوں کو متنفر کرنا شروع کیا پھر مسلم لیگ ن نے غلط ذہن سازی پر دن رات ایک کر دیا اور آج کل عمران خان یہ کام کر رہے ہیں اس کی نوبت کیوں آئی یہ بدگمانیاں کیوں پیدا ہونا شروع ہوئیں اس پر سوچنا بنتا ہے بدقسمتی سے ریاست کا بیانیہ بھی سیاستدانوں جیسا ہو گیا ہے اب عوام تذبذب کا شکار ہیں کہ پہلے والے جھوٹے تھے یا اس کے بعد آنے والے جھوٹے تھے یا دونوں کے بعد آنے والے جھوٹے ہیں دونوں کو جھوٹے کہنے والے کل سچے تھے یا آج سچے ہیں یا پھر سارے سچے ہوتے جا رہے ہیں یا سارے جھوٹے ہیں اللہ ہی جانے کون بشر ہے اتنی کنفیوژن زندگی میں نہیں دیکھی جتنی آج کل ہم بھگت رہے ہیں ایک دور تھا جب پیپلز پارٹی سب سے زیادہ محب وطن جماعت تھی پھر پتہ چلا کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسا تو غدار وطن کوئی ہو ہی نہیں سکتا اس کے خلاف بھرپور تحریک چلائی گئی اور پھر بھٹو کا نام لینا بھی گناہ سمجھا جانے لگا پھر پتہ چلا کہ اس کی بیٹی بے نظیر بھٹو صیح ہے بھٹو کا داماد صیح نہیں پھر پتہ چلا نہیں ایسی کوئی بات نہیں آصف زرداری نے تو پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر پاکستان بچا لیا ہے اس جیسا محب وطن کون ہو سکتا ہے پہلے میاں نواز شریف اس ملک کی تقدیر تھا اور بے نظیر سیکورٹی رسک پھر ہر دو آڑھائی سال بعد کبھی بے نظیر محب وطن بن جاتی کبھی نواز شریف محب وطن ٹھرتے پھر اچانک پتہ چلا کہ نواز شریف جیسا غدار اور کوئی نہیں پھر پتہ چلا کہ ملک تو کھوکھلا ہو چکا دونوں چور ہیں دونوں نے ملک لوٹ کر بیرون ملک اثاثے بنائے ہیں دونوں اس ملک میں صرف لوٹ مار کرنے آتے ہیں دونوں کا احتساب ہونا چاہیے پھر احتساب سے کسی اور کا جنم ہو گیا پھر این آر او سے سارے نیک پاک قرار پا گئے اور سب نے آئیندہ سے اچھے بچے بن کر افہام وتفہیم سے چلنے کی قسم کھا لی جمہوریت کا بول بالا کرنے کے لیے میثاق جمہوریت بھی کر ڈالا پھر ایک ایک باری کے بعد ہی کھوٹ آگئی پھر سب پیا کے من کو بھانے کے لیے تگ ودو میں لگ گئے لیکن پیا کا دل کسی اور پہ آگیا ایک بار پھر بڑی شدومد کے ساتھ لوٹا ہوا مال نکلوانے کی مہم شروع ہوئی احتساب کا قانون بڑا موثر ہوا اور بڑے بڑے گرفت میں آنا شروع ہوگئے پھر مبظر نامہ بدلا تو پتہ چلا کہ کڑے احتساب کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں نہیں چل پا رہیں پھر احتساب کو گرم سے نرم کر دیا گیا کل تک جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بند اور عدالتوں میں پیشاں بھگتنے والے آج کل بادشاہ بنے ہوئے ہیں اور کل کے بادشاہ آج کل مختلف انواع واقسام کے مقدمات بھگت رہے ہیں اقتدار پر براجمان آج کے حکمران پورے زور وشور کے ساتھ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور کل کے حکمرانوں کوآج جن مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا وہ کہہ رہے ہیں ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ کل والے حق پر تھے یا آج والے حق پر ہیں ہر کوئی اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے پوری طاقت کے ساتھ شور مچا رہا ہے اور ہمارے حق سچ کا معیار صرف یہ ہے کہ زیادہ لوگ کون اکھٹے کر سکتا ہے جو زیادہ لوگ اکھٹے کر لے وہ حق پر ہے حقیقت یہ ہے کہ اس غیر یقینی کی صورتحال میں سب مشکوک دکھائی دے رہے ہیں سب کی کمزوریاں ہیں ہر کوئی اپنی کمزوریاں چھپا کر دوسرے کی خامیاں دکھانا چاہتا ہے کیا ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ ہم کہاں پہنچ چکے ہیں اور اس کا انجام کیا ہوگا ہم نے پوری دنیا میں اپنے آپ کو تماشہ بنا رکھا ہے کیا ذمہ دار ایٹمی طاقتیں ایسی ہوتی ہیں کیا دنیا کی ٹاپ ٹین پوزیشنوں پر فعال کرنے والی قوموں کو ایسے تماشے زیب دیتے ہیں اہل علم ودانش اور صاحب الرائے لوگ اس پر ضرور غور کریں اور فیصلہ کرنے والی قوتیں اس ماحول سے ملک وقوم کو نکالنے کے لیے حل تلاش کریں۔