289

مادری زبان کی اہمیت

آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ 21فروری کو مادری زبان کا جو عالمی دن منایا جاتا ہے اس کا محرک بنگلہ دیش ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی جنرل کانفرنس میں بنگلہ دیش نے یہ تحریک پیش کی تھی کہ دنیا بھر میں مادری زبان کا ایک دِن منایا جانا چاہئے تاکہ پوری دنیا کو ماں بولی کی اہمیت اور افادیت سے آگاہی حاصل ہو۔ 1999ء میں یونیسکو نے اس دِن کو منانے کی منظوری دی۔ قیام پاکستان کے بعد اردو کو قومی زبان قرار دیئے جانے کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں اس فیصلے کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا کیونکہ یہاں کی اکثریتی آبادی کی مادری زبان بنگلہ تھی۔ اپنی مادری زبان سے محبت کی وجہ سے بنگالیوں نے اردو زبان کی بالادستی کو تسلیم نہ کیا۔ موجودہ دور میں دنیا کے 195ممالک کے 40فیصد لوگ آج بھی اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مادری زبان وہ ہوتی ہے جس میں ماں اپنے بچے سے بات چیت کا آغاز کرتی اور اُسے بولنا سکھاتی ہے۔ یورپ کے بیشتر ممالک میں مادری زبانیں ہی پرائمری ذریعہ تعلیم ہیں کیونکہ بچے اپنی ماں بولی میں ہی بات کو آسانی اور سہولت سے سمجھتے ہیں۔ ویسے بھی زبان اور ثقافت لازم و ملزوم ہوتے ہیں۔ اپنی زبان کو فراموش کرنے والے اپنی ثقافت سے بھی لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے ہر مہذب اور ترقی یافتہ ملک میں مادری زبان کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ ڈنمارک ہو یا برطانیہ جہاں کہیں بھی تارکین وطن جا کر آباد ہوئے اور اُن کے بچوں کو مقامی زبان بولنے اور سمجھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا تو وہاں فوری طور پر بچوں کو مادری زبان میں تعلیم کے لئے ترجمان اور استاد کا بندوبست کر دیا جاتا ہے۔ برطانیہ میں پرائمری اور سیکنڈری سکول کے بچوں کو ایک غیر ملکی زبان سیکھنے اور پڑھنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے اسی لئے پورے یونائیٹڈ کنگڈم میں ہزاروں طالبعلم ہر سال فرنچ، جرمن، سپینش اور اردو زبانیں سیکھتے اور پڑھتے ہیں۔ برطانیہ میں آباد سکھ کمیونٹی کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے گھر میں اپنے بچوں سے صرف پنجابی زبان میں ہی بات کرتے ہیں۔ اسی لئے برطانیہ میں پیدا ہونے والے سکھ بچے بھی آپس میں مادری زبان میں ہی بات کرتے اور بڑی سہولت سے پنجابی بولتے ہیں۔ اسی طرح یو کے میں آباد کشمیری کمیونٹی کی اکثریت بھی آپس میں کشمیری/پوٹھوہاری زبان میں ہی گفتگو کرتی ہے۔ مادری زبان کے سلسلے میں ہم پاکستانیوں کے مسائل خاصے پیچیدہ ہیں۔ ہمارے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو آپس میں یا اپنے بچوں کے ساتھ اپنی مادری زبان میں بات چیت کرنے کو دقیانوسی سمجھتی ہے۔ وہ مائیں جن کی اپنی مادری زبان پنجابی، سرائیکی، سندھی، بلوچی یا پشتو ہے وہ بھی اپنے بچوں سے اردو یا انگریزی میں بات چیت کرنے کو پہلی ترجیح دیتی ہیں لیکن انہیں اپنی ثقافت سے وابستہ رکھنا چاہتی ہیں۔ وہ یہ حقیقت بھول جاتی ہیں کہ ثقافت کا تحفظ مادری زبان کے تحفظ سے مشروط ہے۔ ہمیں اپنی مادری زبان یا ماں بولی پر فخر کرنا چاہئے۔ اس حقیقت اور سائنسی تحقیق کا ادراک بھی ہمارے لئے ضروری ہے کہ جو بچے اپنی ابتدائی عمر میں ایک سے زیادہ زبانیں بولنا اور پڑھنا سیکھ لیتے ہیں وہ اپنی آئندہ کی زندگی میں اُن بچوں سے زیادہ ذہین ثابت ہوتے ہیں جنہوں نے صرف ایک زبان ہی بولنا اور پڑھنا سیکھی ہو۔ مجھے وہ چھوٹے بچے زیادہ اچھے لگتے ہیں جو اپنی مادری زبان میں بات چیت کرتے ہوں۔ صرف بچے ہی کیا مجھے تو اُن بڑے لوگوں پر بھی رشک آتا ہے جو اپنی مادری زبان میں گفتگو اور مکالمہ کر رہے ہوں۔ مجھے لندن کے اپنے کالم نویس دوست تنویر زمان خان اور برمنگھم کے دوست حسن رضا گوندل(سب رنگ کہانیوں کا انتخاب کرنے والے) اس لئے بھی عزیز ہیں کہ یہ اپنے گھر کے ہر فرد اور ہر دوست سے صرف اپنی مادری زبان میں ہی گفتگو کرتے ہیں۔ اجنبی معاشروں اور دیارِ غیر میں اپنی اپنی مادری زبانوں کا تحفظ کرنا واقعی قابلِ ستائش ہے۔ مجھے اس بات پر بھی بہت حیرانی ہوتی ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پنجابی اور سرائیکی زبانیں بولنے والوں کی اکثریت ہے لیکن اس صوبے کے پرائمری اور سیکنڈری سکولوں میں اِ ن دونوں زبانوں کی تدریس کو درخوراعتنا نہیں سمجھا جاتا۔ پنجابی اور سرائیکی صوبہ پنجاب کے باشندوں کی مادری زبانیں ہیں۔ اگر اِن دونوں زبانوں کو سکولوں میں لازمی زبان کے طور پر نہیں تو اختیاری مضمون کے طور پر تو پڑھا یا جا سکتا ہے۔ معلوم نہیں ہمارے ارباب اختیار اس غلط فہمی میں کیوں مبتلا ہیں کہ بچوں کو اُن کی مادری زبان سکھانے یا اُن میں تعلیم دینے سے اُن پر کوئی منفی اثر پڑے گا یا اُن کی حب الوطنی کا رشتہ کمزور ہو جائے گا۔ جس طرح شمالی سرحدی صوبے کا نام خیبر پختونخواہ رکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑا اسی طرح پاکستان اور بالخصوص پنجاب کے بچوں کو سرکاری سکولوں بلکہ تمام سکولوں میں اُن کی مادری زبانیں پڑھانے سے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ مادری زبانیں سیکھنے کی وجہ سے بچے اپنی ثقافت سے وابستہ رہیں گے اور اپنی ثقافتوں کے مختلف رنگوں کی وجہ سے پاکستانی ثقافت کا گلدستہ اور زیادہ خوشنما ہو گا۔ ہمیں لکیر کا فقیر بننے اور بلاجواز مغالطوں میں مبتلا رہنے کی بجائے حقیقت پسندی اور دوراندیشی سے کام لینا چاہئے اور اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ آج پوری دنیا میں مادری زبانوں کو اولیت دی جا رہی ہے۔ سکولوں میں اُن کی تدریس کے خصوصی انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ ایک سے زیادہ زبانیں بولنے اور سیکھنے کو زیادہ مستحسن سمجھا جا رہا ہے۔ ہمیں اس حقیقت کا بھی ادراک ہونا چاہئے کہ مادری زبانوں کے فروغ سے قومی زبان کی بقا اور ارتقاء پر کوئی حرف نہیں آتا اور نہ ہی قومی رابطے کی زبان کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر بھی حیرت ہو گی کہ برطانیہ یعنی یونائیٹڈ کنگڈم کی کوئی سرکاری زبان نہیں ہے کیونکہ یوکے 4اکائیوں انگلینڈ، ویلز، سکاٹ لینڈ اور آئر لینڈ ہے۔ انگلینڈ کے علاؤہ باقی تینوں اکائیوں میں انگریزی زبان کے مقامی لہجے رائج ہیں۔یونائیٹڈ کنگڈم کی پونے سات کروڑ آبادی میں 58ملین لوگوں کی مادری زبان انگریزی، پندرہ لاکھ لوگوں کی مادری زبان سکاٹش اور 5لاکھ ساٹھ ہزار لوگوں کی مادری زبان ویلش ہے جبکہ برطانیہ میں گذشتہ 20برس کے دوران جس ملک کے لوگوں نے سب سے زیادہ برطانیہ میں سکونت اختیار کی ہے وہ پولینڈ ہے۔ اس لئے برطانیہ میں آباد پولینڈ کے 5لاکھ چالیس ہزار تارکینِ وطن کی مادری زبان پولش ہے۔ اسی طرح برطانیہ میں رہنے والے 2لاکھ 50ہزار ایشیائی تارکین وطن کی مادری زبان اردو، پنجابی، بنگالی اور گجراتی ہے۔ یو کے اور خاص طور پر لندن شہر میں عربی، فرنسیسی، پرتگالی اور ہسپانوی زبانوں کے علاؤہ رومانیہ اور بلگاریہ کی زبانیں بولنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ برطانیہ میں نہ صرف مادری زبان کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے بلکہ مادری زبانوں کا احترام بھی کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ماں اور اولاد کے درمیان رابطے کا پہلا اور اہم ذریعہ ہوتی ہے۔ مجھے پاکستان میں مادری زبانوں کو نظر انداز کئے جانے پر بہت ملال ہوتا ہے لیکن پھر میں سوچتا ہوں کہ جس ملک اور معاشرے میں ماں کو ہی اہمیت نہ دی جاتی ہو اور ماں کے احترام کے تقاضوں کو ہی ملحوظِ خاطر نہ رکھا جاتا ہو وہاں ماں بولی اور مادری زبان کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ کہنے کو تو ہم اپنے ملک کو بھی مادرِ وطن اور دھرتی ماں کہتے ہیں لیکن ہم جو سلوک اپنی اس ماں کے ساتھ کر رہے ہیں اس کی تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں اس لئے صرف اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک لینا ہی کافی ہے۔

٭٭٭٭٭٭