168

لڑائیاں ملک کو 5سال پیچھے لے گیں

موجودہ صورتحال میں عام آدمی کڑنے اور جبر میں پسنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ صدیوں سے اس کے ذہن میں یہ تصور بہت گہرا سرائیت کر دیا گیا ہے کہ سرکار کے سامنے عام آدمی کی کوئی اوقات نہیں جس کے پاس اقتدار ہو اسے حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے جو چاہے کرے تاوقتیکہ کوئی دوسرا حکمران اس کی جگہ نہ لے لے یہی وجہ ہے کہ عام آدمی اپنے آپ کو سٹیک ہولڈر نہیں سمجھتا اور وہ امور مملکت سے دور رہتا ہے اقتدار کی رسہ کشی سیاسی جماعتوں یا ان کے کارکنوں تک محدود رہتی ہے جس کی جیب میں سیاسی کارکن زیادہ آجائیں وہ یہ دعوٰی کرنے میں حق بجانب ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ پبلک زیادہ ہے تبدیلیوں کی ذمہ داری بھی ان ہی سیاسی ورکرز کی ذمہ داری ہوتی ہے پاکستان میں اس وقت حالات خرابی کی انتہاوں کو چھو رہے ہیں لیکن عام آدمی اسے اپنے مقدر کا لکھا سمجھ کر خاموش ہے حالانکہ اسے یہ احساس نہیں کہ ہر شخص کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لیے وہ جدوجہد کرتا ہے یہ سوچ بھی غلط ہے کہ ہمارے سوچنے یا کچھ کرنے سے کیا ہو سکتا ہے حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑی طاقت عوام ہوتے ہیں ہمارے سامنے ہمسایہ ملک افغانستان کی مثال موجود ہے کہ افغانستان کے عوام نے تہیہ کیا کہ انھوں نے کسی غیر ملکی طاقت کی غلامی نہیں کرنی انھوں نے دنیا کی بڑی بڑی سپر پاورز کو دھول چٹا دی عوام اگر خود جبر برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہوں تو کوئی ان پر جبر نہیں کر سکتا یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جیسی عوام ہو گی ویسے حکمران ہوں گے آج جو کچھ پاکستانیوں کے ساتھ ہو رہا ہے اس میں عوام اور حکمران برابر کے جرم دار ہیں مقتدر قوتوں کی محاذ آرائی اور قومی معاملات سے لاتعلق رہنا عوام کا جرم ہے عوام سیاستدانوں کی لڑائی کو سیاسی چپقلش قرار دے کر خاموشی اختیار نہیں کر سکتے موجودہ صورتحال میں اگر عوام الناس نے نوٹس لیا ہوتا تو آج ہم اتنی پستی میں نہ گرے ہوتے اب بھی عوام سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس رونے دونے اور ماتم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں یہ سب غلط ہے اگر عوام آج موجودہ حالات کا سو موٹو نوٹس لے لیں تو اگلے چند روز میں سارے سیاستدان مسائل کے حل پر اتفاق کر سکتے ہیں دوسری جانب صورتحال یہ ہے کہ ہمارے بڑوں کی لڑائی سے مشترکہ طور پر ہم اتنا نقصان کر بیٹھے ہیں کہ اس کی ریکوری کے لیے 5 سال درکار ہوں گے اور اقتدار کے کھیل تماشوں میں ہم نے اخلاقی اقدار تباہ کر بیٹھے ہیں اس کی ریکوری کے لیے کم از کم دس سال اور ایک نسل کی مکمل گرومنگ کرنا ہو گی پھر کہیں جا کر ہم درست راستے پر سوار ہو سکتے ہیں ہمارے کرتا دھرتاوں نے اپنی چالبازیوں سے قوم کے ذہنوں میں یہ سبق بیٹھا دیا ہے کہ اس ملک میں کسی اصول ضابطے، قانون، اخلاقیات اور روایات کی کوئی اوقات نہیں جہاں داو لگے لگا لو اور پھر آپ کے پاس مینج کرنے کے وسائل ہونے چاہیں تو، ستے ای خیراں نیں، ہم نے عدالتی معاملات پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں ہم نے آئینی تقاضے مشکوک قرار دے دیے ہیں۔

ہم نے قوم کی اخلاقیات کو قومی سطح پر مجروح کیا ہے ہم نے تباہی کی مشترکہ کوششوں سے اپنا بیڑہ غرق کیا ہے ہم نے اپنے آپ کو معاشی طور پر اخلاقی طور پر سیاسی طور پر معاشرتی طور پر تباہ کر لیا ہے ہم جس نہج پر پہنچ چکے ہیں اس میں معاشی طور پر اپنے آپ کو بہتری کی طرف لانے کے لیے کم از کم ہمیں دوسال کا وقت درکار ہو گا سیاسی محاذ آرائی میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اگر آج سرنڈر کرکے حالات نارمل کرنے کی کوشش کی جائے تو کم از کم پانچ سال درکار ہوں گے سیاسی تلخیاں کم کرنے کے لیے 5سال درکار ہوں گے معاشرتی اور اخلاقی بہتری کے لیے تو پوری طاقت کے ساتھ اصلاحی تحریک کی ضرورت ہے اور اس کے لیے دس سے بیس سال درکار ہوں گے وہ بھی اس صورت میں جب ہمیں ہوش آجائے ابھی تو ہر کوئی مرنے اور مارنے پر تلا ہوا ہے اللہ کرے ہمیں ادراک ہو جائے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور یہیں سے واپسی کا راستہ لے لیں ورنہ مکمل تباہی کے راستے پر میراتھن ریس تو ہم شروع کر چکے ہیں آخر میں سیاسی معاملات پر بات کرلی جائے اس وقت حکومت اعلانیہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے انکار کر چکی ہے حکومت نے پارلیمنٹ کو عدالت کے سامنے لاکھڑا کیا ہے عوام کو یہ تاثت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ ہے لیکن ابھی تک اس کی واضح شکل سامنے نہیں آسکی ماسوائے وزارت دفاع نے انتخابات کے لیے سیکیورٹی دینے سے انکار کرنا ہے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ کے بعد اس کے اعلامیہ سے نیت واضح ہو سکتی تھی لیکن اسٹیبلشمنٹ نے انتہائی حکمت کے ساتھ اس کے اعلامیہ کو دہشتگردی تک محدود رکھا اور اپنے آپ کو فریق بننے سے بچا لیا اسی طرح قومی اسمبلی کے ان کیمرہ اجلاس میں بھی صورتحال واضح ہو سکتی ہے لیکن تادم تحریر ابھی تک اس اجلاس کا اعلامیہ سامنے نہیں آ سکا دوسری جانب یہ تاثر بھی عام ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف نے امریکہ کے ساتھ اپنے معاملات درست کر لیے ہیں اگر امریکہ پاکستان میں انتخابات کے لیے کھل کر سامنے آجاتا ہے تو پھر بھی پاکستان کو باامر مجبوری الیکشن کروانے پڑیں گے پاکستان میں جاری بحران بارے سعودیہ اور یو اے ای کے کردار کو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کسی اندرونی یا بیرونی قوت کے دباو کے بغیر معاملات حل ہوتے نظر نہیں آ رہے کیونکہ فریقین لڑائی سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں