لندن سے مانچسٹر براستہ برمنگھم

ہر شہر کا اپنا ایک مزاج اور طرزِ زندگی ہوتا ہے۔ پاکستانی تارکین وطن جب کسی اجنبی ملک میں اپنا پڑاؤ ڈالتے ہیں تو جس شہرمیں وہ پہلی بار بسیرا کرتے اور اپنا سامان کھول لیتے ہیں وہی شہر انہیں رفتہ رفتہ مانوس اور اپنا لگنے لگتا ہے اور پھر اس شہر کو چھوڑنا ایک ملک سے ہجرت کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ ویسے تو اوورسیز پاکستانی لندن سمیت برطانیہ کے دیگر بڑے شہروں مانچسٹر، برمنگھم، گلاسگو اور بریڈ فورڈ میں کثیر تعداد میں آباد ہیں لیکن نوٹنگھم، کوونٹری، لیسٹر، ایڈنبرا، راچڈیل، رادھرم، اولڈھم، شیفیلڈ، آکسفورڈ، کیمبرج، نارتھمپٹن اور یونائیٹڈ کنگڈم کے اوربہت سے چھوٹے شہروں میں بھی پاکستانیوں کی اچھی خاصی تعداد مقیم ہے۔ ہم پاکستانی تارکین وطن ایک شہر سے دوسرے شہر صرف اسی صورت میں جاتے ہیں جب وہاں کسی سے کوئی ضروری کام پڑجائے۔ سیاحت کی غرض سے کسی دوسرے شہر میں جانے کی نوبت کم ہی آتی ہے۔ پچھلے دنوں کرسمس کی چھٹیوں کے دوران میں نے مانچسٹر کی سیاحت کا پروگرام بنایا اور راستے میں دو دن کے لئے برمنگھم میں بھی پڑاﺅ ڈالا۔ برمنگھم شہر لندن سے تقریباً ایک سو بیس میل کی مسافت پر ہے۔برطانیہ میں کار سے سفر کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ موٹر وے کے اطراف میں دلکش نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے علاوہ کسی بھی سروس یا ٹاﺅن میں رک کر تازہ دم ہونے کے لئے چائے کافی یا دیگر لوازمات سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور پھر سڑک کے ذریعے سفر سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ دو بڑے شہروں کے درمیان اور کون کون سے چھوٹے شہر آباد ہیں۔ برمنگھم رکنے کا مقصد ایک تو شہر کا سیر سپاٹا کرنا تھا دوسرا مقصد باکسنگ ڈے پر بل رنگ (BULLRING) شاپنگ سنٹر سے خریداری تھا۔ برمنگھم ایک شاندار ملٹی کلچرل میٹروپولیٹن سٹی ہے جس کی کل آبادی تقریباً ساڑھے گیارہ لاکھ ہے۔ یہ برطانیہ کا دوسرا بڑا شہر ہے جس کی شہری حدود 103مربع میل اور مضافاتی حدود 231مربع میل پر مشتمل ہے۔ اس شہر میں 26.6فیصد ایشیائی لوگ رہتے ہیں جن میں 21.8فیصد مسلمان ہیں جبکہ برمنگھم میں آباد اوورسیز پاکستانیوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ بتائی جاتی ہے۔

۔برمنگھم سے چار ایشیائی خالد محمود، طاہر علی، شبانہ محمود اور پریت گِل برطانوی پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ اس شہر کے کثیر الثقافتی ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں 108زبانیں بولی جاتی ہیںاور ہر سال یہاں تقریباً 50ثقافتی میلوں(فیسٹیولز) کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اس منفرد شہر میں 35میل لمبی نہریں مختلف علاقوں سے گزرتی ہیں۔ یہ قدیم نہریں ایک زمانے میں قابل استعمال نہیں رہیں تھیں مگر اب انہیں پھر سے بحال کر کے ان کے گردونواح کی آبادیوں کو ترقی دینے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ یورپ کی سب سے بڑی پبلک لائبریری برمنگھم کے سٹی سنٹر میں ہے جہاں ولیم شیکسپیئر کی تحریروں کا سب سے زیادہ انتخاب موجود ہے۔ سب سے پہلا او ڈین سینما(پکچر ہاﺅس) بھی 1930ءمیں برمنگھم میں بنایا گیا تھا۔پورے یورپ میں برمنگھم کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس شہر کی تقریباً 40فیصد آبادی ایسے نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمریں 25برس سے کم ہے۔ اسی طرح برمنگھم ٹرافیاں بنانے کے حوالے سے خاص شہرت رکھتا ہے۔ فٹ بال اور دیگر کھیلوں کے بین الاقوامی اور بین الملکی مقابلوں کے فاتحین کو جو ٹرافیز دی جاتی ہیں اُن کو بنانے کا اعزاز برمنگھم کو حاصل ہے۔ اس کے علاوہ تھامس داٹینک انجن بھی اسی شہر کی تخلیق ہے۔ میں جب بھی برمنگھم جاتا ہوں تو محمود ہاشمی اور انور مغل بڑی شدت سے یاد آتے ہیں۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ یہ شہر ایک زمانے میں لندن کے بعد ادبی گہما گہمی کا دوسرا بڑا مرکز ہوا کرتا تھا۔ اس بار کوشش تھی کہ اقبال نوید اور عباس ملک سے ملاقات ہو لیکن وقت کی قلت اور مصروفیت کی وجہ سے صرف اقبال اکیڈمی برمنگھم کے مرّوت حسین اور سب رنگ کہانیوں کے مرتب حسن رضا گوندل سے مختصر لیکن بہت خوش گوار ملاقات رہی۔ زیادہ وقت برمنگھم سٹی سنٹر کی رونقیں دیکھنے اور پارکوں کے سیر سپاٹے میں گزرا۔ برمنگھم واقعی بہت اچھا شہر ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔ یہ تاریخی شہر اپنے سائنسدانوں، ادیبوں، کھلاڑیوں اور فنون لطیفہ کی نامور شخصیات کی وجہ سے بھی انفرادیت کا حامل ہے۔ برمنگھم کے بعد میری اگلی منزل مانچسٹر تھی لیکن ایم سکسM6کو سمارٹ موٹر وے بنانے کے تجربے کے باعث پونے دو گھنٹے کا سفر سوا چار گھنٹے میں طے ہوا۔ موٹر وے پر رفتار کی حد 70میل فی گھنٹہ ہے لیکن سمارٹ موٹر وے سسٹم کی وجہ سے جگہ جگہ رفتار کو 40اور 50میل فی گھنٹہ کر دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں M6پر ٹریفک کی کئی کئی میل لمبی قطاریں لگی ہوئیں۔ ایسا لگا کہ برطانیہ میں سمارٹ موٹر وے کا نظام کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ ٹریفک کی وجہ سے مانچسٹر پہنچتے پہنچتے رات ہو گئی۔ ہوٹل میں چیک اِن ہونے کے بعد ویگن(WIGAN)روانہ ہونا تھا جہاں بہاول پور کے ایک دیرینہ دوست انجم بھٹی نے رات کے کھانے کی دعوت دے رکھی تھی۔ طویل مدت کے بعد انجم اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات اور رات گئے تک گپ شپ نے سفر کی تمام تھکن دور کر دی۔ اگلے روز ویمزلو روڈ(WILMSLOW ROAD) پر دیسی ناشتے کے بعد نامور شاعر اور ادیب باصر کاظمی سے ملاقات طے تھی۔ یہ مختصر ملاقات بہت عمدہ رہی اور باصر بھائی نے اگلی ملاقات میں احمد مشتاق کی کلیات عنایت کرنے کا وعدہ کیا۔ مانچسٹر ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ آبادی پر مشتمل برطانیہ کا ایک اہم شہر ہے جس کا کل رقبہ تقریباً 45مربع میل ہے جہاں ساڑھے 14فیصد آبادی ایشیائیوںکی ہے۔ یہ شہر اپنے مضافات سمیت گریٹر مانچسٹر کہلاتا ہے جس کا کل رقبہ تقریباً 244مربع میل اور آبادی 28لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس شہر سے پاکستانی نژاد افضل خان برطانوی پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ مانچسٹر کی تاریخ بہت دلچسپ اور قدیم ہے۔ 1853ءمیں اسے شہر کا درجہ حاصل ہوا تھا۔ ایک زمانے میں مانچسٹر اپنی صنعتی ترقی اور خاص طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری کی وجہ سے بڑی شہرت رکھتا تھا اور اسے دنیا کا پہلا انڈسٹریل سٹی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔اسی شہر میں دنیا کی پہلی ریلوے لائن 1830ءمیں بچھائی گئی جس کے ذریعے لیور پول تک ریل گاڑی کے سفر کا آغاز ہوا۔ مانچسٹر کی چتھم لائبریری دنیا کی ان قدیم ترین پبلک لائبریریز میں سے ایک ہے جو 1653ءمیں قائم ہوئی اور یہاں سینکڑوں برس پرانی کتابیں اور مخطوطات موجود ہیں۔ یونیورسٹی آف مانچسٹر کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ اس علمی ادارے سے تعلق رکھنے والے 25لوگوں کو اب تک نوبل پرائز مل چکا ہے۔ 1903ءمیں مانچسٹر سے عورتوں کے حقوق کی تحریک کا آغاز ہوا تھا جس کے نتیجے میں برطانیہ میں عورتوں کو عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق ملا۔ برطانیہ کے مقبول اخبار گارڈین کی اشاعت کی ابتداء1821ءمیں مانچسٹر سے ہوئی تھی اور اس شہر کا مانچسٹر یونائیٹڈ کلب دنیا کا بہترین فٹ بال کلب شمار ہوتا ہے۔ مانچسٹر کا ویمزلو روڈ کری مائل(CURRY MILE)کہلاتا ہے جہاں تقریباً آدھا میل سڑک کے دونوں طرف طرح طرح کے کھانوں کے ریستوران اور بار ہیں جن میں خاص طور پر پاکستانی کھانے بہت مقبول ہیں۔ چٹخارے دار کھانوں کے شوقین پورے برطانیہ سے یہاں آ کر طرح طرح کے ذائقوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ گریٹر مانچسٹر میں تین سو سے زیادہ ایسی تاریخی عمارات ہیں جنہیں لسٹڈ بلڈنگز(LISTED BUILDINGS)کا درجہ حاصل ہے۔ 1904ءمیں دو امیر شخصیات چارلس رولز اور ہنری رائس نے مانچسٹر سے رولز رائس کمپنی کی ابتداءکی تھی۔ یورپ کا سب سے بڑا شاپنگ مال آرنڈیل سنٹر ARNDALE CENTREبھی مانچسٹر میں ہے جو 1972ءمیں قائم کیا گیا تھا۔ چند برس پہلے دی اکانومسٹ نے ایک دی گلوبل لیوایبل سروےTHE GLOBAL LIVEABLE SURVEYکیا تھا جس میں مانچسٹر کو دنیا کا 28واں بہترین شہر قرار دیا گیا تھا جبکہ پورے یونائیٹڈ کنگڈم میں مانچسٹر کو رہائش کے لئے سب سے اچھا شہر ہونے کا درجہ ملا تھا۔ خوش قسمت ہیں ہمارے وہ دوست احباب جو مانچسٹر میں رہتے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭