Warning: Undefined array key "geoplugin_countryName" in /customers/9/f/a/urdunama.eu/httpd.www/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
186

ایک دن جیل میں۔۔ حصہ دوئم

ہمارا کیمپ جیل لاہور جانے کا مقصد وہاں رہائی سکول میں 10سال تک تعلیم حاصل کرنے والے ایک بچے مرید حسین کی جیل سے رہائی کے بعد نئی زندگی کی شروعات پر منعقد کی جانے والی تقریب میں شرکت تھی آئی جی جیل خانہ جات ملک مبشر احمد خان نے کمال کھلے دل کا مظاہرہ کیا نہ صرف رہائی کو جیل کے اندر تقریب کے انعقاد کی اجازت دی بلکہ رہائی سے وابستہ افراد کی شرکت کو یقینی بنایا بلکہ خود بھی تمام مصروفیات ترک کر کے تقریب میں شریک ہوئے مرید حسین جھنگ کا رہنے والا ہے 2012 میں اس کے بہنوئی نے قتل کیا خود بھاگ گیا اور مرید حسین جو کہ اس وقت 12 سال کا تھا کو پھنسا گیا جیل میں رہائی سکول نے اس کی زندگی بدل دی وہ جیل سے رہا ہوا تو اس کا کوئی سنبھالنے والا نہ تھا رہائی کے توسط سے اسے ایک جگہ ملازمت دلوائی گئی دو ماہ بعد جب وہ اپنے گاوں گیا تو اسے معلوم ہوا اس کی والدہ اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں ہیں والد بیمار ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں اس نے رہائی سے درخواست کی کہ وہ اپنے بیمار والد کی خدمت کرنا چاہتا ہے اسے اگر لوڈر رکشہ لے دیا جائے تو وہ محنت مزدوری کر کے اپنے بوڑھے والد کی کفالت کرے گا رہائی نے انٹرنیشنل شہرت کی حامل تنظیم مسلم ہینڈ کے صاحبزادہ لخت حسین سے کہا جنھوں نے مرید حسین کو لوڈر رکشہ عطیہ کیا لوڈر رکشہ دینے کی تقریب جیل میں منعقد ہوئی جس میں آئی جی جیل ملک مبشر نے لوڈر رکشہ مرید حسین کے حوالے کیا مرید حسین نے اعلان کیا کہ وہ اپنی کمائی کا کچھ نہ کچھ حصہ رہائی سکول کو بھی عطیہ کیا کرے گا تاکہ میرے جیسے جو دوسرے بچے یہاں بند ہیں وہ تعلیم حاصل کر سکیں اس موقع پر جیل میں رہائی سکول سے تعلیم حاصل کر کے معاشرے میں کامیاب زندگی گزارنے والے سابق طلباء نے بھی شرکت کی جنھوں نے جیل میں بند بچوں کو بتایا کہ آپ لوگ بھی ہماری طرح تعلیم حاصل کر کے معاشرے میں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ جب ہم جیل کے اندر پہنچے تو اونچی اونچی دیواروں کے اندر فضا بھی بدلی ہوئی محسوس ہوئی تقریب میں جیل میں بند رہائی سکول کے بچے ایک جیسی یونیفارم پہنے ہوئے بیٹھے تھے۔

وہاں کچھ سفید ڈاڑھیوں والے بزرگ قیدی بھی موجود تھے معلوم ہوا کہ نئے آئی جی جب سے آئے ہیں انھوں نے جیل ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ بزرگ قیدیوں کو اپنا بزرگ سمجھ کر ان کی خدمت کریں انھیں عزت دینے کے لیے تقریبات میں مدعو کیا جاتا ہے جیل میں بند ان بچوں میں ہر ایک کی منفرد کہانی ہے ان میں ایک سب سے چھوٹے بچے جس کا نام مزمل تھا اور اس کی عمر 12 سال تھی بڑا معصوم سا بچہ تھا اسے میں نے اٹھایا اور پوچھا کہ تم جیل میں کیسے پہنچے تو اس نے بتایا کہ میں 2سال سے جیل میں ہوں کھیلتے ہوئے ہم بچے آپس میں لڑ پڑے اور میں نے چھری اٹھا کر دوسرے بچے کو مار دی میرے پاوں تلے سے زمین نکل گئی کہ دس سال کا بچہ کیسے قتل کر سکتا ہے لیکن یہ ہو چکا ہے معلوم ہوا ہے کہ مزمل کا والد نشہ کرتا ہے اور اس کے کیس کی کوئی پیروی کرنے والا نہیں مدعی صلح کے لیے بھاری رقم کا تقاضہ کرتے ہیں یقینی طور پر مزمل نے ایک انسانی جان لی ہے لیکن اس کی ساری زندگی جیل میں گزرنا بھی درست نہیں میں نے وعدہ کیا ہے کہ اگر مزمل کے مدعی اسے معاف کر دیتے ہیں تو ہم اسے رہا کروانے کی کوشش کریں گے اسی طرح ایک اور بچہ اپنوں کی بھینٹ چڑھ گیا اس کی عمر 13 سال ہو گی والد پہلے ہی فوت ہو گیا ہے جائیداد کے جھگڑے پر رشتہ داروں میں آپس میں فائرنگ ہوئی اس بچے کو بھی ایک فائر لگا جس سے اس کی قوت گویائی بھی متاثر ہوئی اس کے بڑے بھائی جس کی عمر 22 سال ہے سمیت 7افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا اور وہ جیل میں ہے ایک 15 سالہ بچے نے بتایا کہ وہ موٹر سائیکل مکینک کا کام سیکھ رہا ہے اس نے کسی سے چوری کا موبائل خریدا جس کا اسے پتہ نہیں تھا ڈیفنس پولیس نے اسے اس چور جس سے اس نے موبائل خریدا تھا کا ساتھی ڈیکلیر کر کے ڈکیتی میں جیل بھیج دیا میں سوچ رہا تھا کہ اس پولیس والے کو یہ زیادتی کرتے ہوئے خوف نہیں آیا کہ اس نے اس کا مستقبل تباہ کر دیا اسی طرح اور بھی کافی واقعات ہیں لیکن ایک امر بہت ہی تشویشناک ہے کہ بہت سارے بچے بدفعلی کے کیس میں جیل میں بند ہیں اور اس کی وجہ سارے ہی موبائل فون پر فحش مواد دیکھنے کو قرار دیتے ہیں اس پر والدین اور معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ایک تو کم عمر بچوں کو ایسے موبائل نہیں دینے چاہیں جن میں ایسے مواد تک رسائی موجود ہو دوسرا بچوں کی تفریح کے مواقع پیدا کرنے چاہیں تاکہ ان کا خیال بے راہ روی کی طرف نہ جائے اور بچوں کی سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھنی چاہیے تقریب میں اردو بازار کے پبلشر ابو ذر غفاری جو کہ روز اول سے لے کر آج تک رہائی سکولوں کے بچوں کو کتابیں کاپیاں اور سٹیشنری کا سامان فراہم کر رہے ہیں اس کے علاوہ ڈیجٹل ورلڈ کے محمد فاروق نسیم، میاں فاروق احمد، ہارون علی چیمہ، نصرت محمود قریشی، محمد نواز خان، عمران عظیم اور شہزادی بانو نے شرکت کی جو بچوں کے یونیفارم شوز اور ٹیچرز کا اہتمام کرنے میں مدد کرتے ہیں نے شرکت کی رہائی کے زیر اہتمام پنجاب کی 9 جیلوں میں قائم سکولوں میں بچوں کو درسی تعلیم کے علاوہ مذہبی تعلیم اور ووکیشنل ٹریننگ بھی دی جاتی ہے جس میں کمپیوٹر کورسز، ٹیلرنگ، الیکٹریکل کورسز کروائے جاتے ہیں جبکہ خواتین کو تعلیم کے ساتھ ساتھ بیوٹشنز اور کڑھائی سلائی سیکھائی جاتی ہے