158

ایک دن جیل میں۔۔ حصہ اوّل

جیل کا نام سنتے ہی قید کی سی کیفیت محسوس ہونے لگتی ہے میں روٹین سے تھوڑا پہلے تیار ہو کر گھر سے نکلنے لگا تو بچوں نے پوچھا کہ آج آپ جلدی جا رہے ہیں کہاں جانا ہے غیر ارادی طور پر منہ سے نکلا جیل جا رہا ہوں تمام اہل خانہ ہکا بکا رہ گئے خیریت ہے آپ کیوں جیل جائیں تب مجھے احساس ہوا کہ جیل کس خوف کانام ہے میں نے بتایا کہ اللہ معاف کرے میں نے کوئی جرم نہیں کیا جس کی پاداش میں جیل جا رہا ہوں بلکہ جیل کے اندر ایک تقریب ہے جس کی وجہ سے جیل جانا ہے اس پر مجھے اپنی وہ عزیزہ بھی یاد آگئیں جب بہت عرصہ قبل میں پہلی دفعہ بھارت جا رہا تھا ضیا الحق کے دور میں بھارت کے ساتھ ہماری بہت زیادہ کشیدگی تھی اور پھر تعلقات بہتر بنانے کیلئے وفود کی سطح پر رابطے شروع کرنے کا فیصلہ ہوا چونکہ بہت عرصے کے بعد پہلا پاکستانی وفد بھارت جا رہا تھا میں تیار ہو رہا تھا میری عزیزہ کسی کام کے سلسلہ میں مجھے ملنے آئیں میں نے بتایا کہ میں انڈیا جا رہا ہوں واپسی پر آپ کا کام کروا دوں گا وہ فوری بولیں بیٹا کیوں دشمنوں کے ملک جا رہے ہو میں نے انھیں غرض وغیات بتائی تو کہنے لگیں پتر دھیان نال کھاویں پیویں کوئی چیز نہ وچ پا دین دشمنان دا کی اعتبار دراصل جو تاثر ہوتا ہے وہ بہت کارگر ہوتا ہے جیلوں کے بارے میں بھی کچھ ایسا ہی تاثر ہے کوئی بے گناہ بھی ایک بار جیل سے ہو آئے تو یہ داغ ساری عمر اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا معاشرہ اسے قبول ہی نہیں کرتا حالانکہ اسے معاشرے کی زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے مہذب معاشرے بھٹکے ہوئے لوگوں کا زیادہ خیال رکھتے ہیں ان پر زیادہ توجہ دیتے ہیں انھیں نارمل لائف میں لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن یہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے یہاں اگر کسی سے نادانستہ طور پر بھی غلطی ہو جائے تو اس سے اتنی نفرت کی جاتی ہے کہ وہ بھی مجبور ہو کر پھر معاشرے سے دل کھول کر بدلے لیتا ہے اگر کوئی گناہ سے توبہ بھی کرلے تو ہم اسے جینے نہیں دیتے ہمیں اپنے رویوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے مجھے آئی جی جیل خانہ جات ملک مبشر احمد خاں جن کی ساری زندگی جیلوں میں بند افراد سے ڈیل میں گزری انھوں نے بتایا کہ جیلوں میں بند 90 فیصد لوگوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ توبہ کرکے اصلی زندگی کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں صرف 10 فیصد لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مافیاز کا حصہ ہوتے ہیں وہ اپنی زندگی نہیں بدلنا چاہتے ہیں۔

جس پہلو کی طرف آج میں آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں وہ بالکل مختلف ہے ان بچوں کا کیا قصور ہے جن کی مائیں کسی بھی وجہ سے جیل میں بند ہیں اور وہ ابھی شعور کی منزلوں کو نہیں پہنچے وہ ماں کے جرم کی سزا بھگت رہے ہیں ان کی جیلوں میں تربیت کا علحیدہ انتظام ہونا چاہیے انھیں جیل سے باہر لاکر مختلف سرگرمیوں میں ملوث رکھنا چاہیے تاکہ ان کے شعور میں عام زندگی کا تاثر ابھر سکے اسی طرح کم عمر بچے جو کسی جانے انجانے میں جرم کر بیٹھے ہوں ان کی ساری زندگی ابھی باقی پڑی ہو ان کے ساتھ بھی روائیتی سلوک نہیں ہونا چاہیے فرح ہاشمی صحافت میں ہماری پرانی ساتھی ہیں کبھی میں ان کا چیف رپورٹر رہا ہوں اور میں نے ان کی خبروں کو جیل کہانی کے طور پر شائع کرنا شروع کیا انھوں نے اپنے خاوند عدیل نیاز کے ساتھ مل کر انسانی خدمت کا اتنا بڑا کام سرانجام دیا کہ اب بخوشی میں ان کی ماتحتی میں خدمت کرنا اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں انھوں نے مجھے اور ایثار رانا کو رہائی کا بورڈ آف ڈائریکٹر بنایا ہے 22سال قبل فرح نے جیل کے وزٹ کے دوران محسوس کیا کہ جیل میں بند بچوں کی کہانیاں بڑی دردناک ہیں وہ بڑے ہو کر بھی نارمل لائف نہیں گزار پائیں گے پھر انھوں نے اس وقت کے آئی جی جیل خانہ جات میجر ضیاء الحسن کے ساتھ آئیڈیا شیئر کیا اور انھیں بتایا کہ وہ رہائی کے نام سےجیل میں بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے سکول بنانا چاہتی ہیں انھوں نے بخوشی اس کی اجازت تو دے دی لیکن جیل کے اپنے قواعد وضوابط ہوتے ہیں اور اس راجدھانی کا سربراہ سپرنٹنڈنٹ ہوتا ہے جس کی اجازت کے بغیر جیل میں چڑیا پر نہیں مار سکتی ہر روز کے مشکل مراحل اور وسائل کی کمی کے باوجود یہ انوکھا سکول چلایا گیا اس نے اتنے زبردست نتائج دیے کہ آج پنجاب کے 9 اضلاع کی جیلوں میں 14 سکول کام کر رہے ہیں جیلوں کا وزٹ کرنے والے ہر معتبر شخصیت نے اس کام کو سراہا ہے عدلیہ، انتظامیہ محکمہ سوشل ویلفیئر نے رہائی تنظیم کے ان سکولوں کو رول ماڈل قرار دیا ہے موجودہ آئی جی جیل خانہ جات ملک مبشر احمد خان نے پنجاب کی تمام جیلوں میں رہائی سکول قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے بلا شبہ اس کے لیے بہت بڑے سرمائے کی ضرورت ہے لیکن انسان ہمت کر لے تو سارا کچھ ہو سکتا ہے ہمیں یقین ہے کہ ہم جلد تمام جیلوں میں رہائی سکول قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے مجھے خوشی ہے کہ فرح ہاشمی نے جس سکول کا آغاز کیا تھا اب ان سکولوں سے پچھلے 20،21 سالوں میں جیلوں میں بند 9ہزار بچے تعلیم حاصل کر چکے ہیں اور جیلوں سے رہا ہو کر نارمل زندگی بسر کر رہے ہیں بلکہ ان میں سے کئی ایک وکیل تاجر اور انجینئر بن کر قوم کی خدمت کر رہے ہیں ذرا تصور کریں اگر جیل میں ان بچوں کو تعلیم نہ دی گئی ہوتی انھیں تربیت کے مرحلہ سے نہ گزارا گیا ہوتا تو یہ جیل سے رہا ہونے کے بعد معاشرے پر بوجھ ہوتے بلکہ یہ جرائم کی دنیا بسا کر معاشرے کے لیے عذاب بنے ہوتے (جاری ہے )