165

ہمارے راشد اشرف

جنازے کو جب مسجد سے قبرستان لے جانے کے لئے گاڑی میں رکھا جانے لگا تو ایک کونے میں کھڑی خواتین کی سسکیوں اور دھیمی آواز میں رونے کے تسلسل نے مرنے والے کی ہم سب سے جدائی کے منظر کو اور زیادہ غم ناک بنا دیا۔ سوگواروں اور پسماندگان کے قبرستان پہنچنے تک قبر کھودی جا چکی تھی۔ یہ اتوار کی ایک بہت ہی اداس کر دینے والی سہ پہر تھی جب میت کو قبر میں اتارا گیا تو تدفین میں شریک ہر ایک فردکا دِل غم اور ملال سے بھر گیا۔ہر ایک کو مرنے والے کے ساتھ گزارا ہوا وقت، ملاقاتیں اور باتیں پھر سے یاد آنے لگیں۔مرحوم کی شاندار شخصیت کی خوبیوں کے بہت سے حوالے ذہن میں تازہ ہونے لگے۔ موسم اگرچہ کسی حد تک خوشگوار تھا لیکن چزل ہرسٹ کے کیمنل پارک قبرستان میں ہر طرف سوگواری چھائی ہوئی تھی۔ قبروں کے درمیان ہر طرف سبز گھاس کی تہہ بچھی ہوئی تھی۔ قبرستان کے چاروں طرف اونچے اونچے درخت ایستادہ تھے جنہیں ایک ناقابل بیان اداسی نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ قرآنی آیات، کلمہ شہادت اور دعائیں پڑھتے ہوئے لواحقین اور احباب نے تدفین کے بعد قبر پر مٹی ڈالنا شروع کی تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ ہم سب کے راشد اشرف واقعی ہم سب سے جدا ہو کر آسودۂ خاک ہو گئے ہیں۔

رفتگاں کو یہ دکھ کہاں معلوم

ہم نے کیسے انہیں روانہ کیا

(قمررضا شہزاد)

مجھے اس موقع پر اُن کی کہانی ”انا للہ وانّا الیہ راجعون“ یاد آ رہی تھی جو ایسے ہی کسی قبرستان میں ایک میت کو سپردخاک کئے جانے کے واقعے کی جزیات نگاری پر مبنی ہے۔ یہ کہانی اِن سطور پر اختتام پذیر ہوتی ہے ”قبر کو مٹی سے بھر دیئے جانے کے بعد لوگ اپنی اپنی نئی پرانی کاروں میں بیٹھ کر عجلت کے ساتھ گھروں کو روانہ ہو گئے، صرف ایک شخص تھا جو پیدل جا رہا تھا۔ قبرستان کا وہ مزدور جو ایک صاف رومال سے اپنی آنکھیں پونچھ رہا تھا، شاید اس کی آنکھوں میں کچھ پڑ گیا تھا“۔ سید راشد اشرف کو لوگ ایک صحافی، براڈ کاسٹر، مترجم اور ایک پُروقار دانشور کے طور پر جانتے ہیں۔ میں اُن کی مذکورہ تمام حیثیتوں اور خوبیوں کے ساتھ ان کی کہانی نویسی کا بہت بڑا مداح ہوں۔ 2019ء میں جب انہوں نے اپنی کتاب ”دہلیز اور دوسری کہانیاں“ عنایت کیں تو اس میں شامل 9کہانیوں کو پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ راشد اشرف کی قوت مشاہدہ بہت کمال کی ہے۔انہوں نے ایک اجنبی معاشرے کے مختلف کرداروں سے جو کہانیاں تخلیق کی ہیں وہ دیارِ غیر میں اردو کے قارئین کے لئے دلچسپی کے بہت سے لوازمات سے مزین ہیں۔ اس کتاب میں شامل دو کہانیاں ”چکن رن“ اور ”نامردہ“ تو پاکستان کے کسی ادبی رسالے میں شائع ہو کر مقبولیت کی سند حاصل کر چکی ہیں لیکن باقی 7کہانیاں بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس کتاب میں ایک کہانی کا عنوان 1972ء ہے۔ یہ کہانی برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی تنہائی کے دکھ اور کئی طرح کی ناآسودگیوں کا احاطہ کرتی ہے۔ راشد اشرف ایک بھرپور زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔انہوں نے ایک صحافی اور براڈ کاسٹر کے طور پر ایک شاندار زندگی گزاری۔ 1961ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کرنے کے بعد وہ ریڈیو پاکستان اور لاہور ٹیلی ویژن سے وابستہ رہے۔ اس دوران وہ تعلقات عامہ کے شعبے سے بھی منسلک رہے۔ 1966ء میں انہیں بی بی سی ریڈیو کی اردو سروس کے لئے منتخب کر لیا گیا اور پھر وہ لندن آ کر 42برس اس ادارے سے منسلک رہے۔ بی بی سی سے وابستگی کے دوران انہوں نے بہت سے ایسے براڈ کاسٹرز اور صحافیوں کی تربیت کی جو اردو صحافت میں آج بھی کارہائے نمایاں سرانجام دے رہے ہیں۔انہوں نے ایک جدید صحافتی انگریزی اردو لغت بھی مرتب کی جسے پاکستان میں مقتدرہ قومی زبان اور بھارت میں ادارہ فروغ اردو نے شائع کیا۔ اپنی افادیت اور اہمیت کے اعتبار سے یہ لغت راشد اشرف کا ایک بہترین تحقیقی کارنامہ ہے جس سے موجودہ دور کے صحافیوں اور براڈ کاسٹرز کو ضرور استفادہ کرنا چاہئے۔ راشد صاحب نے ایک ناولٹ CONSTANSIAاور بین اوکری کے ناول THE FAMISHED ROADکا اردو ترجمہ بھوکی سڑک کے نام سے کیا۔ ترجمے کا فن سیکھنے والوں کے لئے یہ دونوں کتابیں ایک عمدہ مثال ہیں۔ راشد اشرف زندگی بھر نمودونمائش اور کسی قسم کی پبلک ریلیشننگ سے گریز کرتے اور اپنے تحقیقی اور تخلیقی کاموں میں مصروف رہے۔ کسی ستائش اور صلے کی تمنا کئے بغیر اپنے حصے کے چراغ روشن کرتے رہے۔ آج کے دور میں ایسے لوگ بہت نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔ میری اُن سے آخری ملاقات لندن میں ڈاکٹر جاوید شیخ کے گھر کچھ عرصہ قبل افتخار عارف کی برطانیہ آمد پر ہوئی تھی۔ اس روز وہ بہت ہشاش بشاش تھے اور بی بی سی لندن میں ملازمت کے دوران دلچسپ واقعات سناتے اور اپنے رفقاء کا ذکر کرتے رہے۔ وہ کم گو تھے لیکن جب گفتگو کرتے تو اُن کی لہجے کی شائستگی اور آواز کی نفاست سننے والے کا دِل موہ لیتی تھی۔ 2009ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے خود کو مزید لکھنے پڑھنے میں مصروف رکھا۔ وہ اپنے بعد کے ادیبوں اور صحافت کا پیشہ اپنانے والوں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی میں بہت کشادہ دِل تھے اور اُن کی مدد پر ہمیشہ آمادہ رہتے۔ قیام پاکستان کے بعد اُن کے خاندان نے دلی سے ہجرت کی تھی اور پھر وہ خود لاہور سے ہجرت کر کے لندن آ گئے۔ ہجرتوں کے اس سفر نے اُن کی شخصیت پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے جس کا اظہار انہوں نے اپنی کہانیوں اور افسانوں میں بھی کیا ہے۔ راشد اشرف کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد مجھے شدت سے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اُن سے اور زیادہ ملاقاتیں اور مجلسیں ہونی چاہئیں تھیں۔ ابھی تو لندن کے مجھ جیسے بہت سے اہل قلم ساقی فاروقی کی وفات کے دکھ سے نہیں نکل پائے کہ راشد اشرف بھی اگلے سفر پر روانہ ہو گئے۔

بستیاں چاند ستاروں پر بسانے والو

کرّہ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ

راشد اشرف اپنی زندگی میں بھی زندہ رہے اور اس دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اپنے ادبی اور صحافتی ورثے کے باعث زندہ رہیں گے۔ ہماری حکومت اور اداروں کو چاہئے کہ ایسے لوگوں کے تحقیقی اور تخلیقی کام کا اعتراف کریں جنہوں نے کسی ایوارڈ اور اعزاز کی تمنا کے بغیر اپنی ساری زندگی لکھنے پڑھنے کے لئے وقف کر دی۔ مجھے یاد ہے کہ کچھ عرصہ پہلے اردو مرکز لندن نے ساقی فاروقی کی یاد میں ایک اجلاس منعقد کیا تو اس میں راشد اشرف نے ساقی صاحب پر بہت عمدہ تعزیتی مضمون پڑھا۔اس وقت میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ کچھ عرصہ بعد مجھے راشد اشرف پر ایک تعزیتی کالم لکھنا ہو گا۔ راشد صاحب ہم آپ کے چلے جانے پر بہت غمزدہ اور دکھی ہیں لیکن کیا کیا جائے موت اٹل ہے۔

رہتا نہیں انسان تو ہوتا نہیں غم بھی

اک روز زمین اوڑھ کے سو جائیں گے ہم بھی

(احسان دانش)

راشد اشرف کی تدفین کے بعد جب میں واپس گھر آ رہا تھا تو میں نے بھی ایک صاف رومال سے اپنی آنکھیں پونچھ لیں مجھے یوں لگا کہ شاید میری آنکھوں میں بھی کچھ پڑ گیا تھا۔

٭٭٭٭