229

مسافر….رضا علی عابدی

یہ 1990ءکا موسم بہار تھا جب رضا علی عابدی بہاول پور آئے۔ میں یونیورسٹی کا طالب علم تھا، وہ کسی نوجوان شاعر کی تلاش میں تھے میں اُن دِنوں ریڈیو پاکستان بہاول پور میں اناﺅنسر کے طور پر بھی کام کرتا تھا۔ عابدی صاحب ریڈیوا سٹیشن تشریف لائے تو اُن سے پہلی بار ملاقات ہوئی میں اُن کی آواز کا مداح تو پہلے ہی تھا اُن سے مل کر اُن کی شاندار شخصیت کا بھی پرستار ہو گیا۔ میں اور میرے دوست یوسف لودھی اُنہیں چولستان کی سیر کرانے لے گئے جہاں انہوں نے صحرا کی ریت پر بیٹھ کر میری شاعری ریکارڈ کی اور پھر جب میں لندن آ گیا تو انہوں نے مجھے بی بی سی ریڈیو کی اردو سروس میں متعارف کرایا۔ اُن سے میری نیاز مندی کا جو سلسلہ قائم ہوا وہ تاحال جاری و ساری ہے۔ رضا علی عابدی پندرہ برس کی عمر سے لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے پہلی ہجرت 1950ء میں یوپی کے ایک چھوٹے سے شہر روڑکی سے کراچی اپنے خاندان کے ہمراہ کی تھی۔ 60ءکی دہائی میں جب راولپنڈی سے روزنامہ جنگ کا آغاز ہوا تو وہ پنجاب آ گئے اور پھر 1972ءمیں بی بی سی ریڈیو کی اردو سروس سے وابستگی انہیں لندن لے آئی۔ ہجرتوں کے اس سلسلے کی وجہ سے سفر رضا علی عابدی کی سرشت میں شامل ہو گیا۔لڑکپن میں انہیں پہلی تحریر کا معاوضہ دو روپے ملا تھا اور چند برس قبل جب انہوں نے پنجاب مڈل سکولنگ پراجیکٹ کے لئے بچوں کی دو کتابیں لکھیں تو انہیں اس کا معاوضہ 2لاکھ روپے دیا گیا۔ دو روپے سے دو لاکھ روپے تک کے اس سفر میں عابدی صاحب نے جرنیلی سڑک اور شیر دریا جیسی بے مثال کتابیں بھی تحریر کیں جنہوں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کئے۔ دیگر خوبیوں کے علاوہ ان کی تحریروں کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ بڑی سے بڑی اور مشکل سے مشکل بات کو بھی ایسے شاندار پیرائے میں بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والا اُسے کہانی سمجھ کر پڑھتا ہے۔ وہ انجینئرز کے خاندان میں پہلے فرد ہیں جنہوں نے اپنے لئے صحافت، براڈ کاسٹنگ اور ادب کے شعبے کا انتخاب کیا۔ رضا علی عابدی کا مزاج ابتدا سے ہی کہانی اور سفر نگاری کی طرف مائل تھا اور جب وہ بی بی سی سے وابستہ ہوئے تو انہیں بر صغیر کے سفر اور اَن گنت لوگو ں سے ملاقات اور اُن کے خیالات جاننے کا موقع میسر آیا جس کے بعد اُن کی کتابیں جرنیلی سڑک شیر دریا اور ریل کہانی منظرِ عام پر آئیں۔ یہ تینوں کتابیں تحقیق، فیچر رائیٹنگ، سفر نویسی اور طرح طرح کی دلچسپ کہانیوں کا مجموعہ ہیں۔ اِ ن کتابوں میں رضا علی عابدی کا طرزِ تحریر ایسا دلچسپ ہے کہ یوں لگتا ہے مصنف کسی منظر کو بیان نہیں کر رہا بلکہ منظر خود اپنے بارے میں اپنے قارئین کو بتا رہا ہے اور انہیں دعوتِ نظارہ دے رہا ہے۔ وہ جب بھی کہیں گئے عام لوگوں سے ملے اور اُن کے تاثرات اور جذبات سے آگاہی حاصل کی۔ہنر مند، قابل اور پرخلوص لوگوں سے ملنے کی جستجو میں رہے، بڑے اور بااختیار لوگوں اور سیاستدانوں سے گریز کیا۔ہزاروں میل سفر کے دوران ریلوے اسٹیشنز پر دریا اور سڑک کے کنارے انہوں نے جو کچھ دیکھا اُسے ریکارڈ اور قلمبند کیا۔ اس سفر میں اُن کے ساتھ بہت سے ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے کہیں اُن کے ساتھ بدسلوکی ہوئی تو کہیں انہیں گرفتار کرنے کی دھمکیاں دی گئیں لیکن انہوں نے اِن تلخ یادوں سے بھی اپنی تحریر کو مزین کیا ۔ اُن کی کتاب شیر دریا کراچی یونیورسٹی میں مطالعہ پاکستان کے شعبے میں طلبا کو پڑھائی جاتی ہے۔ یہ کتاب دریائے سندھ کے کنارے پر آباد لوگوں کی تہذیب و تمدن اور اُن کے معاشرتی رویوں پر مشتمل ایک مشاہداتی داستان ہے جو اپنے قارئین کے لئے دلچسپی کے بہت سے لوازمات کا احاطہ کرتی ہے۔ اسی طرح ”کتب خانہ“ کے لئے مواد یکجا کرنے کی خاطر انہوں نے کراچی سے پٹنہ اور ٹونک سے میسور تک کی لائبریریز کو کھنگالا اور جرنیلی سڑک پر انہوں نے پشاور سے کلکتے تک سفر کیا۔ رضا علی عابدی کی بچوں کے لئے 20کتابوں اور قاعدوں کے علاوہ اب تک جو 16کتابیں چھپ چکی ہیں وہ ہمارے اردو ادب کا سرمایہ ہیں۔ اِ ن کتابوں میں کتب خانہ، جرنیلی سڑک، شیر دریا، ریل کہانی، اپنی آواز، جان صاحب، جہازی بھائی، جانے پہچانے، ملکہ وکٹوریہ اور منشی عبد الکریم، نغمہ گر، حضرت علیؓ کی تقریریں، ریڈیو کے دن، پہلا سفر، اخبار کی راتیں، کتابیں اپنے آبا کی، تیس سال بعد اور پرانے ٹھگ شامل ہیں۔ رضا علی عابدی نے زندگی بھر کسی ستائش اور صلے کی تمنا کے بغیر اپنے قارئین کے لئے لکھا بلکہ بہت عمدہ اور سہل لکھا کیوں کہ انہیں آسان زبان لکھنے کا ہنر آتا ہے۔ خواص کی بجائے عوام کو پیش نظر رکھتے ہیں کیونکہ وہی اُن کے اصل سامع اور قاری ہیں اور اِن کی تعداد اگر کروڑوں میں نہیں تو لاکھوں میں ضرور ہے۔ رضا علی عابدی جیسے ادیبوں اور براڈ کاسٹر کی وجہ سے لندن کو اردو کا تیسرا بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے جنہوں نے دیارِ غیر میں اردو زبان و ادب کے فروغ کو اپنی زندگی کا مشن بنا رکھا ہے۔مجھے یاد ہے کئی برس پہلے روزنامہ جنگ لندن میں اردو زبان کی بقا اور مستقبل کے موضوع پر رضا علی عابدی نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانیہ میں اردو کو بچانے کا یہ آخری وقت ہے۔ ابھی ایک چھت کے نیچے دو ایسی نسلیں موجود ہیں جن میں سے ایک نسل اردو بولتی ہے اور دوسری بھول گئی ہے مگر وہ سمجھ ضرور لیتی ہے۔ اس صورت کو کیش کرانے کی ضرورت ہے اور جس دِن ہماری نئی نسل اردو سمجھنا چھوڑ دے گی اس دِن اس زبان کی موت واقع ہو جائے گی۔ اب بھی وقت ہے کہ ایک نسل دوسری نسل کو اردو کا ورثہ سونپ سکتی ہے۔ ایسے قاعدے اور کتابیں لکھی جائیں جو دادا دادی یا نانا نانی اپنے پوتوں پوتیوں یا نواسوں نواسیوں کو پڑھا سکیں تاکہ انہیں اپنی مادری زبان کی شدھ بدھ حاصل ہو سکے ورنہ کوئی دِن جاتا ہے کہ یہاں اردو بولنے والا صرف وہ رہ جائے گا جو یہاں آ کر سیاسی پناہ لیتا ہے بلکہ اب تو اس پر بھی بندش لگنے والی ہے۔ رضا علی عابدی کی بیشتر تحریریں اور کتابیں اُن کے سفری مشاہدات پر مبنی ہیں۔ وہ ایک ایسے مسافر ادیب اور براڈ کاسٹر ہیں جن کی زندگی واقعی کھلی کتاب کی طرح ہے۔انہوں نے جو محسوس کیا، دیکھا یا سنا وہ سب تحریر کر دیا ہے۔ اردو دنیا کے لوگ انہیں ایک صحافی اور سفرنامہ نگار کے طور پر جانتے ہیں لیکن درحقیقت وہ نیوز کو بھی سٹوری کے طور پر اپنے قاری اور سامع تک پہنچانے کو زیادہ موثر سمجھتے ہیں۔ اُن کی کتابیں اپنی آواز اور جان صاحب بہت منفرد اور عمدہ کہانیوں کے مجموعے ہیں۔ جو اردو کے افسانوی ادب میں خوشگوار اضافہ ہیں۔ رضا علی عابدی کے مداحوں کو اُن کے یہ دونوں افسانوی مجموعے ضرور پڑھنے چاہیئیں۔رضا علی عابدی نے جو کچھ لکھا اگر وہ یہ سب کچھ انگریزی میں تحریر کرتے تو انہیں برطانوی حکومت کئی طرح کے اعزازات دے چکی ہوتی۔ مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ حکومت پاکستان کے اُن ارباب اختیار نے رضا علی عابدی کی کتابوں کو کیونکر نظر انداز کر دیا جو اردو کے ادیبوں کو سرکاری اعزازات دینے کے فیصلے کرتے ہیں۔ رضا علی عابدی اس سلسلے میں نہ تو کسی قسم کی لابی کا سہارا لینے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی اعزازات کا حصول اُن کے تخلیقی مشن کا حصہ ہے۔ وہ صرف اس بات سے سرشار رہتے ہیں کہ اُن کی بات اپنے مخاطب تک پہنچ رہی ہے۔ یہ بات اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے لئے باعث فخر ہے کہ رضا علی عابدی نے اس جامعہ کی طرف سے اعزازی ڈاکٹر اور پروفیسر کی ڈگری کو قبول کیا۔قحط الرجال کے اس زمانے میں ہمیں جو بڑے تخلیق کار اور شاندار لوگ میسر ہیں ہمیں اُن کی زندگی میں ہی اُن کے فن اور قابلیت کا اعتراف کرنا چاہیئے۔

٭٭٭٭٭٭