215

پھس گئی جان شکنجے اندر

صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے الیکشن کمیشن کی تجویز کردہ تاریخوں میں بلا تاخیر 30 اپریل کو پنجاب کے الیکشن کروانے کا اعلان کر دیا ہے اب الیکشن کمیشن خیبر پختون خواہ کے گورنر کی جانب سے الیکشن ڈے کی تاریخ کے انتظار میں ہے تاکہ ایک ہی بار دونوں کا شیڈول جاری کیا جائے لیکن گورنر خیبر پختون خواہ ابھی بھی گیند کو کبھی ادھر پھینک کبھی ادھر پھینک والی پالیسی پر گامزن ہیں عدالتی حکم کے بعد الیکشن کمیشن کی مشاورت سے صدر مملکت دوبارہ الیکشن کی تاریخ دے چکے لیکن نہ جانے کیوں ابھی تک الیکشن کے انعقاد بارے غیر یقینی برقرار ہے حکومتی جماعتیں تاحال الیکشن میں دلچسپی ظاہر نہیں کر رہیں نہ جانے دل میں کیا کھوٹ ہے ذہنوں میں کیا پلاننگ چل رہی ہے وزیراعظم ہاوس میں آرمی چیف اور چیرمین جائینٹ چیفس آف سٹاف کی وزیراعظم میاں شہباز شریف سے ملاقاتوں کو بڑا اہم سمجھا جا رہا ہے حکومتی جماعتوں کی جان پر بنی ہوئی ہے اب کیا کریں سیاسی طور پر عمران خان انتخابی پراسس میں داخل ہونے سے پہلے ہی ہونجا پھیر چکا ہم سمجھتے تھے کہ شہروں کی حد تک ابال آیا ہوا ہے لیکن یہاں تو ہر طرف یکطرفہ ہوا چل پڑی ہے دیہاتوں سے بھی اسی قسم کی آوازیں آ رہی ہیں گذشتہ روز شیر گڑھ اوکاڑہ سے میرے ایک دوست محمد اصغر، فواد چوہدری کو ملنے آئے ہوئے تھے میں نے اس سے پوچھتا کہ آپ کا تو سیاست سے دور دور کا تعلق نہیں پھر آپ فواد چوہدری سے کیوں ملنا چاہتے ہیں اس کا کہنا تھا کہ عمران خان سے تو ملاقات بہت مشکل ہے لیکن اس کی ترجمانی کرنے والوں کو ہی دیکھ کر روح راضی کر لیں گے فواد چوہدری جب بولتا ہے تو ایسے لگتا ہے جیسے کوئی شیر گرج رہا ہو اس نے بتایا کہ چونکہ میں بہت زیادہ سوشل ورک کرتا ہوں لوگوں سے رابطہ رہتا ہے میں جس بھی گاوں میں جاتا ہوں عمران خان عمران خان ہو رہی ہے، عمران خان نے اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد ہی اگلے الیکشن کی تیاریاں شروع کر دی تھیں اس کے برعکس پی ڈی ایم کی جماعتوں نے اقتدار ضرور حاصل کر لیا لیکن عمران خان نے ان کے پاوں نہیں لگنے دیے نہ ہی ان سے معاملات سنبھالے گئے اور نہ ہی معاملات چلا سکے حکومت کا سارا فوکس اپنے مقدمات ختم کروانے اور عمران کو دبانے پر تھا جبکہ ہر آنے والے دن میں عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا عوام کا اعتماد مجروح ہوتا گیا حکومت عمران خان کو جتنا دباتی رہی وہ اتنا ہی ابھر کر سامنے آتا گیا اب حکومت چاروں طرف سے گھیرے میں ہے ملکی معاملات میں ڈیڈ لاک پیدا ہو چکا ہے حکومتی جماعتوں کو کوئی راستہ سلجھائی نہیں دے رہا حکومت پھس گئی جان شکنجے اندر ایں جیویں ویلن وچ گنا کی طرح پھنس چکی ہے نہ عوام میں جانے کے قابل رہی ہے نہ حکومت چلانے کے قابل ہے اب بھی راستے تلاش کیے جا رہے ہیں کہ کس طرح الیکشن سے راہ فرار اختیار کی جائے کس طرح اقتدار کو طول دیا جائے اس کے لیے وہ ہر رسک لینے پر تیار ہیں پورے ملک اور 22کروڑ عوام کو سولی پر لٹکایا ہوا ہے آخر کار کب تک کبوتر کی طرح آنکھیں بند رکھ کر وقت ٹپانے کی کارروائی کی جائے گی آخر کار حقیقتوں کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا اب پوری پی ڈی ایم مخمصے میں پھنسی ہوئی ہے کہ دو صوبوں کے الیکشن میں کیسے جائیں اگر دو صوبوں کے الیکشن میں جاتے ہیں تو جنرل الیکشن بھی ہاتھ سے جاتا ہے حکومت اب قومی سلامتی کے اداروں کو امتحان میں ڈالے ہوئے ہے ان کی ہرممکن کوشش ہے کہ جیسے تیسے وقت کو ٹالا جائے لیکن لگتا ہے کہ اب فیصلوں کا وقت آچکا ہے اب وقت ٹالنا بہت مشکل ہو جائے گا اب کچھ نہ کچھ ہو کر ہی رہے گا عمران خان نے تو پنجاب میں باقاعدہ اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے تحریک انصاف پوری طرح الیکشن میں جاچکی اور عوام بھی تیار ہیں لیکن پی ڈی ایم سے فیصلہ نہیں ہو پا رہا۔