194

سیاسی نفع نقصان

سیاستدان عوام کی خدمت کے لیے سیاست میں آتے ہیں اپنا سکھ چین عوام پر قربان کر دیتے ہیں ناں دن دیکھتے ہیں ناں رات عوام کی خدمت میں جت جاتے ہیں ان کی زندگی عوام کے لیے وقف ہوتی ہے فیملی کو وقت نہیں دے پاتے جیب سے پیسے خرچ کر کے ملک وقوم کی خدمت کرتے ہیں پھر بھی گالیاں کھاتے ہیں کیونکہ وہ عوامی خدمت سے سرشار ہوتے ہیں پہلے زمانے کے سیاستدان اپنے اثاثے بیچ کر سیاست کرتے تھے یہ اثاثے بنا کر سیاست کرتے ہیں یہ جب سیاست میں آتے ہیں اس وقت ان کے اثاثے کتنے ہوتے ہیں اور جو چند سال عوام کی خدمت کر لیتا ہے اس کے اثاثوں میں ایسی خیر وبرکت ڈلتی ہے کہ پھر اس کی کئی نسلوں کو کام کرنے ضرورت نہیں رہتی شریف اور زرداری فیملی کے پاس اتنے اثاثے ہیں کہ ان کی اگلی کئی نسلیں نوٹوں کو آگ لگا کر اس پر کھانا پکائیں تو پھر بھی کئی دہائیوں تک نوٹ ختم نہیں ہو سکتے لیکن دولت کی حرص اس قدر ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی دوسری جانب عزت کی اس معراج پر ہیں کہ ہر روز ایک دوسرے کی ماں بہن ایک کر رہے ہوتے ہیں۔

میں پچھلے 34 سال سے دیکھ رہا ہوں اپوزیشن ہر حکومت بارے کہہ رہی ہوتی ہے حکمرانوں نے ملک کی بقا خطرے میں ڈال دی ہے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیا ہے ہم ملک بچانے نکلے ہیں کئی دفعہ پیپلزپارٹی نے ملک بچایا پھر کئی دفعہ ن لیگ نے ملک بچایا پھر ایک دفعہ ق لیگ نے ملک بچایا پھر جب ساروں نے ملک تباہ کر دیا تو عمران خان ملک بچانے آگئے اب سارے پی ڈی ایم والے کہتے ہیں یم نے اپنی سیاست تباہ کر کے ریاست بچا لی ہے اگر عمران خان کی حکومت چند دن اور رہ جاتی تو ملک ڈیفالٹ کر جاتا ہم نے اپنی سیاست کی قربانی دے کر ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا ہے اب عمران خان کہہ رہا ہے ان سے ملک نہیں چل پا رہا اگر یہ کچھ دن اور رہ گئے تو ملک کا حال سری لنکا جیسا ہو جائے گا مجھے اقتدار میں آنے کی کوئی جلدی نہیں لیکن یہ جتنے دن رہیں گے ملک کا اتنا ہی نقصان بڑھتا جائے گا اس لیے فوری طور پر الیکشن کروانے جائیں حکمران حکومت نہیں کر رہے چوبیس گھنٹے حکومت بچانے کے چکروں میں رہتے ہیں تحریک انصاف ہر وقت حکومت گرا کر نئے الیکشنوں کی راہ نکالنے پر لگی ہوئی ہے اور پاکستان کے تمام سیاستدان عوامی خدمت پر لگے ہوئے ہیں حکمران اقتدار کی کرسی پر اس طرح چپک کر بیٹھے ہیں جیسے کرسی کو ایلفی لگ گئی ہو اگر سمجھ لگ رہی ہے کہ عوام ساتھ نہیں رہے تو زیادہ دیر چپکے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں چونکہ دسمبر شروع ہو گیا ہے سال کے آخری مہینے میں حساب کتاب کیا جاتا ہے اس سال کیا کھویا کیا پایا جب یہ سال شروع ہوا تھا تو پی ڈی ایم کی جماعتیں کہہ رہی تھیں مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے یہ حکومت رہی تو عوام مر جائیں گے مہنگائی مارچ کیے جا رہے تھے مہنگائی سے نجات دلانے کی جدوجہد کی جا رہی تھی اور ساتھ ہی یہ کہا جا رہا تھا کہ عمران خان کو 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے لایا گیا تھا لہذا عمران کی حکومت ختم کر کے فوری الیکشن کروائیں گے اس وقت عمران خان عوامی پذیرائی کھو رہے تھے وہ عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر پا رہے تھے اپنے سب سے بڑے نعرے احتساب پر عملدرآمد کروانے ملک کی دولت لوٹنے والوں سے ریکوری کرنے میں ناکام ہو رہے تھے ایسے میں پی ڈی ایم نے عدم اعتماد سے عمران خان کی حکومت تو ختم کر دی لیکن اس دوران ارکان اسمبلی کی خریدوفروخت نے اخلاقی جواز ختم کر دیا دوسرا اقتدار سنبھال کر الیکشن سے انکاری نے عوام سے کیے وعدے سے روگردانی نے عزائم بے نقاب کر دیے تیسرا حکومت نےعوام سے مہنگائی کم کرنے کے وعدے کے الٹ کئی گنا مہنگائی کرکے اپنے پاوں پر کلہاڑا مار لیا اب ہر آنے والے دن میں حکومت کی ناکامی سے عمران خان کی پاپولریٹی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور پی ڈی ایم کے خلاف عوامی غیض وغضب بڑھتا جق رہا ہے اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ نہ بہتری لائی جا رہی ہے نہ عوامی حمایت حاصل ہو پارہی ہے جس فوری الیکشن کا وعدہ کر کے عمران کی حکومت ختم کی گئی تھی وہ الیکشن ڈراونا خواب بن گیا ہے اقتدار پی ڈی ایم کی چھیڑ بن چکی ہے تحریک انصاف عوام میں دندناتی پھر رہی ہے اور پی ڈی عوام کا سامنا کرنے سے گھبرا رہی ہے سوال یہ اٹھتا ہے کہ حکومت کے پاس وہ کونسا الہ دین کا چراغ ہے جس سے مہنگائی کے جن کو قابو کر لے گی جس سے عمران خان کی شہرت کو ڈمیج کر کے اپنی ساکھ کو بہتر بنا لے گی جوں جوں حکمران جماعتیں اقتدار کو بچانے کےیے آخری حد تک جا رہی ہیں توں توں عوامی پذیرائی سے محروم ہوتی جا رہی ہیں حکمران جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنا پروگرام لے کر عوام میں جائیں اگر انھیں عوامی پذیرائی ملے تو اقتدار کو بچا لیں ورنہ پھر عوام کو فیصلہ کرنے دیں جہاں تک نفع نقصان کا تعلق ہے تو پی ڈی ایم کی قیادت کو ایک فائدہ ضرور ہوا ہے تمام نے اپنے کیسز ختم کروا لیے ہیں اور نیب کو پٹاری میں بند کر دیا ہے یہ فیصلہ تاریخ کرے گی کہ سیاست کی قیمت پر مقدمات سے جان چھڑوانا نفع کی تجارت تھی یا نقصان کی