174

مقبولیت کا گراف

تازہ تازہ ایک گیلپ سروے آیا ہے جس نے پہلے سے خوفزدہ لوگوں کو مزید خوفزدہ کر دیا ہے اس سروے کے مطابق تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پاکستان کے سب سے زیادہ مقبول ترین لیڈر ہیں پاکستان کا کوئی بھی سیاسی رہنما مقبولیت کی اس بلندی کے قریب بھی پھٹکنے نہیں پا رہا اس گراف کے مطابق تو عمران خان دوتہائی اکثریت لیے بیٹھا ہے عمران خان کی مقبولیت 61 فیصد ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے روح رواں میاں نواز شریف اور پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو زرداری کے درمیان مقبولیت کی ریس لگی ہوئی ہے اس وقت دونوں 36 فیصد کی مقبولیت پر دوڑ رہے ہیں مریم نواز اپنے چچا جو کہ اس ملک کے وزیراعظم بھی ہیں ان سے دوہاتھ آگے ہیں مریم نواز مقبولیت کے گراف میں 34 فیصد اور میاں شہباز شریف تیری پرواز سے جلتا ہے زمانہ گراف میں 32 ویں درجے پر براجمان ہیں مولانا فضل الرحمن 31 فیصد اور ایک زرداری سب پر بھاری اس انڈیکس میں سب سے آخر میں 27 فیصد مقبولیت کے ساتھ براجمان ہیں اگر اس گراف کے حوالے سے دیکھا جائے تو عمران خان مدمقابل کسی بھی لیڈر سے دوگنی شہرت کے ساتھ پرفارم کر رہے ہیں ایسے حالات میں مریم نواز کا یہ گلہ شکوہ درست ہے کہ میری جماعت کے قائدین بیانیہ بنانے میں میرا ساتھ نہیں دیتے انھوں نے اپنے پارٹی اجلاسوں میں یہ بھی فرمایا ہے کہ سیاست میں جارحانہ رویہ ہی پارٹی کو آگے لانے میں کارآمد ہو سکتا ہے لیکن سیاسی شہرت کے کھیل سے دلچسپی رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ اگر مقبولیت میں پانچ دس فیصد کاگیپ ہو تو پھر سازشیں رنگ بازیاں کرتب اور مخالف بیانیے اور شہرت کو داغدار کرنے کے میتھڈ کام دکھا سکتے ہیں لیکن جہاں اتنی بڑی خلیج آجائے وہاں سب ہتھکنڈے ناکام ہو جاتے ہیں لوگ حقیقت کو بھی سازشی تھیوری سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ہرن کے شکاری اس ٹرم کو سمجھتے ہیں کہ جب ہرن کلانچیں بھرنا شروع کر دے تو شکاری اس کا پیچھا کرنا چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ انھیں پتہ ہوتا ہے کہ اب اس نے قابو نہیں آنا اس کا پیچھا کرنا فضول کی مشق ہے اسی قسم کا مسلئہ عمران خان کا ہے پوری پی ڈی ایم عمران خان کو داغدار ثابت کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی ہے روز کرائے کے دانشور لکھاری اور سوشل میڈیا کے جغادری زمین آسمان کے قلابے ملا کر عمران خان کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کی غلطیاں کوتاہیاں بیان کرکے اس سے عجیب وغریب قسم کی کہانیاں منسوب کرکے اس کی شہرت کو متاثر کرنے کی مہم چلا رہے ہیں لیکن عوام ہیں کہ وہ عمران خان کے خلاف کسی ایک بات پر بھی کان دھرنے کے لیے تیار نہیں وہ عمران خان کے خلاف کوئی بات سننا گوارا ہی نہیں کرتے اس لیے اس کام کے لیے کی جانے والی تمام تر محنت اور وسائل رائیگاں جا رہے ہیں پی ڈی ایم کی جماعتوں میں سے اگر کسی نے مقبولیت میں ترقی کی ہے تو وہ مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو ہیں اور میدان سیاست کے سب سے بڑے کھلاڑی آصف علی زرداری شہرت میں سب سے پیچھے ہیں لیکن شہرت کی اس ریس میں انھوں نے سب کو آگے لگایا ہوا ہے پی ڈی ایم کے ساتھ تو ،مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی،والا معاملہ ہو رہا وہ عمران کو جتنا دبانے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کرتے ہیں اس کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں اتنا ہی اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ابھی ایک اور ادارے نے سروے کیا ہے جس کی رپورٹ کے مطابق اگر عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو اس کی مقبولیت میں 15 فیصد تک مزید اضافہ ہو جائے گا یعنی وہ مقبولیت کے گراف میں 75 فیصد اضافہ کی اعلی معراج پر پہنچ جائے گا ایک عالمی ادارے کی رائے ہے کہ جس دن عمران خان کی مقبولیت کا گراف 80 فیصد کو ٹچ کر گیا اس روز گیم سب کے ہاتھ سے نکل جائے گی عمران خان کی مقبولیت سے صرف مخالف سیاسی جماعتیں ہی پریشان نہیں بلکہ کئی بین الاقوامی اور داخلی قوتوں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے یہی وجہ ہے کہ سارے جتن عمران خان کی مقبولیت کو کم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں سب طاقتوں کو پریشانی ہے کہ اگر عمران خان اتنی قوت کے ساتھ اقتدار میں آگیا تو وہ اپنی من مانی کرے گا آخر میں خبر یہ ہے کہ بیک ڈور چینل سے پورے ملک میں ایک ہی بار عام انتخابات کروانے کے لیے اتفاق رائے کا ڈول ڈال دیا گیا ہے تحریک انصاف ایک ہی روز الیکشن کروانے کی تاریخ دینے پر پنجاب اور خیبر پختون خواہ کے انتخابات کو آگے لیجانے پر رضامند ہو جائے گی اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس میں کس حد تک سنجیدگی کی ساتھ کوششیں کی جا رہی ہیں یا وقت گزاری کے لیے چکمہ دیا جا رہا ہے۔