200

پاکستانی کرپٹ مافیاز کی لندن میں جائیدادیں

میں ایسٹ لندن کے جس گھر میں رہتا ہوں وہ سَن 1900ء میں تعمیر ہوا تھا یعنی اس گھر کو تعمیر ہوئے تقریباً ایک سو تئیس (123) برس ہو چکے ہیں۔ لندن شہر کے بیشتر گھر اتنے ہی قدیم ہیں اور بہت سے مکان تو دو یا تین صدیاں پہلے کے بنے ہوئے ہیں لیکن اب بھی رہائش کے لئے بہت آرام دہ اور ہر طرح کی سہولت سے آراستہ ہیں۔ انگریزوں کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ عمارتیں یا مکانات تعمیر کر کے اُن کو حالات کے رحم و کرم پر ہی نہیں چھوڑ دیتے بلکہ اُن کی دیکھ بھال یعنی مینٹی نینس (Maintenance) کا بھی بہت خیال رکھتے ہیں۔پورے برطانیہ اور خاص طور پر لندن میں زیادہ تر مکانات قطار در قطار بنے ہوئے ہیں اور ہر گھر ایک مشترکہ دیوار کی وجہ سے دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ کسی بھی گھر کی چھت پر کوئی اضافی منزل تعمیر نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی کوئی اپنی مرضی کے مطابق گھر تعمیر کر سکتا ہے۔ نئے گھر کی تعمیر یا پہلے سے بنے ہوئے گھر میں ایکس ٹینشن کے لئے مقامی کونسل سے باضابطہ اجازت لینی پڑتی ہے اور منظور شدہ نقشے کے مطابق ہی تعمیراتی کام ہو سکتا ہے۔ میں کئی بار سوچتا ہوں میرا گھر جو 123برس پہلے تعمیر ہوا تھا اس میں مجھ سے پہلے جو لوگ رہتے رہے ہوں گے اُن میں سے بیشتر اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں لیکن یہ گھر اپنی جگہ موجود اور قائم ہے۔ ہم اس دنیا میں اپنے لئے گھر بنانے بلکہ اچھے سے اچھا گھر بنانے یا خریدنے کے لئے کتنے جتن کرتے ہیں، کتنے پاپڑ بیلتے ہیں مگر یہ گھر یہیں رہ جاتے ہیں اور ان کے مکین رفتہ رفتہ اپنے اگلے سفر پر روانہ ہوتے جاتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگوں کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ اپنی اولاد کے لئے بھی اپنی زندگی میں کوئی عالیشان گھر خرید لیں یا تعمیر کریں یا اُن کے لئے اتنی جائیداد اور اثاثے چھوڑ جائیں کہ وہ ہمارے بعد آسان اور پر آسائش زندگی گزار سکیں۔ اس معاملے میں انگریزوں کا طرزِ زندگی اور طرزِ فکر ہم سے بہت مختلف ہے۔ وہ کبھی جائیز اور ناجائیز طریقے سے اپنی اولادوں کے لئے عالیشان گھر بنانے، مال اکٹھا کرنے یا وراثت میں بیش بہا اثاثے چھوڑ جانے کو اپنی پہلی ترجیح نہیں بناتے۔ انگریزوں اور خاص طور پر مال دار انگریزوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنے اثاثوں اور وراثت کا بڑا حصہ کسی خیراتی ادارے (چیریٹی آرگنائزیشن) کو دے جاتی ہے اور اس مقصد کے لئے گورے اپنی زندگی میں ہی وصیت لکھ دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے مقابلے میں انگریز یا عیسائی اپنی موت کو زیادہ یاد رکھتے ہیں اور کسی قسم کی معذوری یا بیماری میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی اپنی فیونرل سروس (کفن دفن) کے انتظامات کر لیتے ہیں اور موت کو ایک اٹل حقیقت سمجھ کر اُسے قبول کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ہم مسلمان اور خاص طور پر پاکستانی مسلمان زندگی کی ستر اسی بہاریں دیکھنے اور طرح طرح کی بیماریوں اور معذوری میں مبتلا ہونے کے باوجود ہوسِ زر کے غلبے سے نہیں نکل پاتے۔ بالخصوص ہمارے سیاستدانوں میں اختیار اور اقتدار کے حصول کی خواہش مرتے دم تک انہیں ہلکان کئے رکھتی ہے۔ عمر کے جس حصے میں برطانوی سیاستدان عملی سیاست اور پارلیمنٹ سے ریٹائر ہو کر اپنی فیونرل سروس اور وصیت کے کاغذات کا جائیزہ لینے لگتے ہیں اس عمر میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سیاستدان، حکمران اور اربابِ اختیار (بشمول کرپٹ جرنیل اور جج) اپنی اولادوں کے لئے زیادہ سے زیادہ مال سمیٹنے اور سمیٹے ہوئے مال کو ٹھکانے لگانے کی بھاگ دوڑ میں لگے ہوئے ہوتے ہیں۔

لندن کا شمار دنیا کے مہنگے ترین دارالحکومتوں میں ہوتا ہے اور خاص طور پر سنٹرل لندن کا علاقہ نائٹس برج، ماربل آرچ، ایجویرروڈ، پارک لین وغیرہ میں اپارٹمنٹس یا فلیٹس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں اور آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ اِ ن علاقوں میں سینکڑوں پاکستانی سیاستدانوں، حکمرانوں اور ارباِ اختیار نے اپنے اپنی اولادوں یا اپنے عزیزو اقارب کے نام پر مہنگی ترین جائیدادیں خرید رکھی ہیں جن کی تفصیل کا یہ کالم متحمل نہیں ہو سکتا لیکن یہ تفصیلات بہ آسانی کمپنیز ہاؤس، یوکے لینڈ رجسٹری اور مقامی کونسل کی ویب سائٹس سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ لندن یا برطانیہ میں کرپٹ پاکستانیوں کی یہ جائیدادیں دراصل اُن کے لئے ایک طرح کی پناہ گاہیں ہیں جو انہوں نے مشکل وقت کے لئے اپنے اور اپنی اولادوں کے لئے بنا رکھی ہیں۔ سیاستدانوں اور پاکستان کے اصل حکمرانوں کے علاؤہ مذہبی رہنماؤں نے بھی برطانیہ میں قیمتی جائیدادیں خرید رکھی ہیں۔ اِن مذہبی پیشواؤں اور پیروں نے یونائیٹڈ کنگڈم کے مختلف شہروں میں اپنے دینی مراکز قائم کر رکھے ہیں جہاں اُن کی عالیشان رہائش اور قیام کے بہترین انتظامات کا بھی اہتمام موجود ہے۔ اِن نام نہاد پیروں، مذہبی اور مسلکی رہنماؤں نے یہ سب کچھ اپنے مریدوں اور پیروکاروں کے چندے اور عطیات سے بنایا ہے اور اِن میں سے بہت سے ہوشیار پیروں اور مسلکی رہنماؤں نے اپنے اپنے ٹی وی چینل شروع کر رکھے ہیں جن پر اُٹھنے والے ہزاروں پاؤنڈز کے ماہانہ اخراجات بھی سادہ لوح مریدوں کی جیب سے ادا کئے جاتے ہیں۔ اِن سجادہ نشینوں اور مذہبی ٹھیکیداروں کے ماہانہ اخراجات ہزاروں پاؤنڈہیں جو کسی محنت مزدوری اور کام کے بغیر چندے کے نام پر ان کی جیب میں آ جاتے ہیں۔ کروڑوں پاؤنڈ کی وہ جائیدادیں اس کے علاؤہ ہیں جو انہوں نے اپنے مرحوم بزرگوں اور مذہبی مراکز کے نام پر بنا رکھی ہیں۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی اِن پاکستانی اور کشمیری پیروں اور ملاؤں کا کام بڑی سہولت سے چل رہا ہے اور وہ یونائیٹڈ کنگڈم کے مختلف شہروں میں بغیر کوئی کام کئے ٹھاٹھ کی زندگی گزار رہے ہیں اور اُن کے مرید بلکہ جاہل مرید اُن کی ہر طرح کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ہر وقت مستعد اور تیار رہتے ہیں۔ برطانیہ میں 2020ء سے پہلے 2لاکھ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری پر غیر ملکیوں کو انوسٹمنٹ ویزا ملتا تھا جو برطانوی شہریت کے حصول کا آسان ذریعہ تھا۔ اس انوسٹمنٹ ویزے پر پاکستان سمیت بہت سے غریب ملکوں کے ہزاروں سرمایہ کاروں نے برطانوی شہریت حاصل کی۔ پاکستان کے بہت سے نامور صحافیوں اور سرکاری افسروں نے اس انوسٹمنٹ ویزے پر اپنی فیمیلز کو برطانیہ میں سیٹل کروایا۔ برطانیہ میں ملازمت اور کام کرنے والے لوگوں کے لئے زندگی بھر کی کمائی سے دو لاکھ پاؤنڈ جمع کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے لیکن پاکستان اور دیگر ممالک کے کرپٹ سرمایہ داروں نے اس انوسٹمنٹ سکیم کا بہت فائدہ اُٹھایا اور برطانیہ کو اپنے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ بنا لیا۔ برطانوی حکومت نے جب یہ دیکھا کہ دو لاکھ پاؤنڈ کی انوسٹمنٹ پاکستان اور دیگر غریب ملکوں کے سرمایہ کاروں کے لئے بہت معمولی حیثیت رکھتی ہے اور وہ دھڑا دھڑ اس سکیم کے ذریعے انوسٹمنٹ ویزے اور شہریت حاصل کر رہے ہیں تو اُنہوں نے اس انوسٹمنٹ ویزے کے لئے کم سے کم رقم کو 2لاکھ پاؤنڈ سے بڑھا کر 2ملین پاؤنڈ یعنی 20لاکھ پاؤنڈ کر دیا اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اس انوسٹمنٹ ویزے کے خواہش مندوں میں کمی نہیں آئی جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان سمیت بہت سے پسماندہ ملکوں میں سرمایہ کاروں کے پاس مال ودولت اور وسائل کی کمی نہیں ہے۔ حیران کن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے جو سیاستدان اور حکمران اوورسیز پاکستانیوں کو وطن عزیز میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتے ہیں یا ترغیب دیتے رہے ہیں وہ خود یااُن کی اولادیں پاکستان کی بجائے برطانیہ میں کیوں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہ کیسا عجیب تضاد ہے معلوم نہیں۔ ہمارے ملک کے عوام اپنے سیاسی رہنماؤں کی اِ ن منافقتوں کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے باوجود اِن مفاد پرست سیاستدانوں کی اندھی تقلید سے باز نہیں آتے اور وہ ایک رہزن کے بعد دوسرے رہزن سے یہ امید لگا لیتے ہیں کہ وہ انہیں ان کی منزل تک پہنچا دے گا۔ جن رہنماؤں نے اپنے ملک کے حالات بہتر بنانے کی بجائے اپنے رہنے کے لئے کوئی اور بہتر ملک یا پناہ گاہ تلاش کر لی ہو اُن سے خیر کی توقع کرنا اور اُن سے حالات کی بہتری کی امید لگانا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ معلوم نہیں پاکستان کے ”باشعور“ عوام کب تک خود کو دھوکہ دیتے رہیں گے۔ ویسے بھی ہمارے ملک کے ”اصل حکمرانوں“ نے پاکستان کے معاشی اور سماجی حالات کو جس نہج تک پہنچا دیا ہے اب وہاں عوام کے لئے مزید دھوکے کھانے کی کوئی گنجائش نہیں رہ گئی۔