سر اٹھاتی دہشت گردی

پنجابی کی مثال ہے، کابل دے جمیاں نوں نت لڑائیاں، یعنی کابل میں پیدا ہونے والوں کو اکثر لڑائیاں رہتی ہے افغانوں کو لڑائی کے علاوہ اور کچھ آتا نہیں لڑائی ہی افغانستان کا سب سے بڑا بزنس ہے اگر انھیں کوئی باہر سے آنے والے لڑائی کے لیے میسر نہ ہوں تو وہ آپس میں لڑنا شروع کر دیتے ہیں کوئی بھی وہاں لڑائی پر سرمایہ کاری کرکے کچھ بھی کروا سکتا ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان دنیا کی تین بڑی سپر پاورز کا قبرستان ہے افغانوں نے برطانیہ، روس اور امریکہ کے اپنی سرزمین پر پاوں نہیں ٹکنے دیے یہ بھی انسانی تاریخ کا عجوبہ ہے کہ افغانوں نے ہر دور میں دنیا جہاں کے وسائل رکھنے والی جدید ہتھیاروں سے لیس طاقتوں کو دیسی ہتھیاروں اور حملہ آوروں سے چھین کر ان کے ہتھیاروں سے انھیں شکست دے کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا دوسری جانب حال ہی میں افغانستان سے رسوا ہو کر جانے والی دنیا کی سپر پاور امریکہ جس نے ساری زندگی جنگوں کا کاروبار کیا ہے کہیں خود جنگ لڑ کر اور کہیں دوسروں کو لڑا کر اسلحہ کابزنس کیا ہے جب تک امریکہ افغانستان میں بیٹھا تھا تو افغانی ان سے جنگ میں مشغول تھے ساتھ ان کا کاروبار بھی چل رہا تھا جب سے امریکہ وہاں سے گیا ہے ان کے پاس کرنے کا کوئی کام نہیں وہ آج کل فارغ ہیں اور مختلف طاقتیں انھیں کام پر لگانے کے لیے ان پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں امریکہ کو تو افغانستان سے نکلتے ہی کام مل گیا تھا وہ بڑی عقلمندی کے ساتھ روس اور یوکرائن کو لڑانے میں کامیاب ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پورا یورپ بلکہ کئی دیگر ممالک بھی ڈسٹرب ہیں لیکن امریکہ کا کاروبار چل پڑا ہے امریکہ نے کہیں سرد جنگ اور کہیں گرم جنگ سے مال بنایا ہے دہشتگردی کا شوشہ بھی امریکہ کا پیدا کردہ تھااور اس کے ذریعے دنیا کا سب سے بڑا کاروبار بھی امریکہ تاحال کر رہا ہے آج دنیا کو سب سے بڑا خطرہ دہشتگردی سے ہے دنیا عدم تحفظ کا شکار ہے اور اس کے لیے بے تحاشہ پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے آپ زیادہ دور نہ جائیں صرف اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ آج ہر کوئی اپنے تحفظ کے لیے اپنی کمائی کا بہت بڑا حصہ خرچ کر رہا ہے پاکستان کی ساری معاشرت ہی بدل گئی ہے اب ہمارے عوامی سرکاری دفاتر اور گھر قلعوں کا منظر پیش کر رہے ہیں ہر دفتر اور درمیانے سے گھر کو سیکورٹی گارڈ رکھنا ضروری ہو گیا ہے کیمرے لازمی ہو گئے ہیں تعلیمی ادارے جنگی مورچوں کا منظر پیش کرتے ہیں سرکاری عمارتوں اور تعلیمی اداروں پر خار دار تاریں لگی ہوئی ہیں آج ان ہاوسنگ سوسائٹیز کو ترجیح دی جاتی ہے جن کی گیٹڈ سیکورٹی ہے آج سیکورٹی کے آلات دھڑا دھڑ فروخت ہو رہے ہیں پوری دنیا میں ان کی مانگ ہے بلٹ پروف گاڑیوں کی مانگ بھی ختم نہیں ہو رہی یہ سب کاروبار کئی دہائیوں سے چمک رہے ہیں اور نہ ہی ختم ہو نے کا نام لے رہے ہیں اس حوالے سے بے شمار تحقیقات کار نشاندہی کر چکے ہیں کہ اس کے پیچھے کونسی قوتیں ہیں لیکن طاقت کو کون پوچھ سکتا ہے دنیا میں دہشتگردی سے سب سے زیادہ پاکستان اور افغانستان متاثر ہوا ہے۔

افغانستان میں اعلانیہ جنگ لڑی گئی جبکہ پاکستان میں غیر اعلانیہ جنگ مسلط رکھی گئی پاکستان نے 80 ہزار لوگوں کی جانوں کا نذرانہ دیا ہے پاکستان کی معیشت کی اصل تباہی دہشتگردی سے ہوئی ہے پاکستان نے ایک خوفناک جنگ لڑ کر دہشتگردی پر قابو پایا تھا لیکن اب ایک بار پھر پاکستان پر دہشتگردی کی جنگ مسلط کی جا رہی ہے امریکہ افغانستان سے جس برے طریقے سے شکست کھا کر نکلا وہ اسے بھولا نہیں اس کا بدلہ وہ افغانستان اور پاکستان سے دوسرے طریقوں سے لینا چاہ رہا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں اسے فتح نہیں دلوائی امریکہ چاہتا تھا کہ افغانستان میں پاکستانی امریکہ کی جنگ لڑ کر طالبان کو اسی طرح شکست دے جس طرح روسیوں کو دی تھی پاکستان نے اپنے اوپر جبر برداشت کیا لیکن افغانستان میں طالبان کے ساتھ الجھنے سے ہمیشہ گریز کیا امریکہ طالبان کا تو کچھ بگاڑ نہیں سکا لیکن پاکستان کو سبق سیکھانا چاہتا ہے وہ بھارت کے ذریعے افغانستان میں دوبارہ جڑیں مضبوط کر چکا ہے بھارت بھی پاکستان کو افغان سرحد پر الجھائے رکھنا چاہتا ہے اس کی کوشش ہے کہ افغان سرحد پر پاکستان کو جذباتی کرکے افغانوں سے دست وگریبان کروا دیا جائے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ کے باعث آج امریکہ پاکستان کو دہشتگردی میں مدد کی آفر کر رہا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ وہ مدد کے نام پر پاکستان میں اڈے حاصل کرے اور ان اڈوں کے ذریعے پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے نام پر اپنے ٹارگٹ اچیو کرے دراصل یہ وہ اصل سازش تھی جس کو عمران خان اپنی حکومت کے خاتمہ سے منسوب کرتا ہے اصل سازش کچھ اور ہے اور وہ یہ کہ پاکستان میں سیاسی معاشی عدم استحکام پیدا کر کے پاکستان کو گھٹنوں کے بل کرکے اپنی شرائط منوانی جائیں پاکستان میں اپنے پاوں جمائے جائیں اور خطے کو پاکستان کے ذریعے کنٹرول کیا جائے پاکستان کی معاشی ابتری ،توانائی کا بحران آج ہماری کمزور حکومتوں کو بہت کچھ کرنے پر مجبور کر سکتا ہے ابھی سیاسی عدم استحکام مزید بڑھانا مقصود ہے اس لیے معاملات حل نہیں ہو پا رہے ہماری لیڈر شپ اپنی انا کی خاطر استعمال ہو رہی ہے بہر حال اطلاعات ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف ایک اور فیصلہ کن آپریشن کی تیاریاں کی جا رہی ہیں لیکن اس کے لیے سارا کچھ فوج کے ذمے نہیں لگا دینا چاہیے انتہائی بدقسمتی ہے کہ ہم نے بہت سارے معاملات فوج کے کھاتے میں ڈال کر اپنے آپ کو بری الذمہ ٹھرا لیا ہوا ہے جس میں امن و امان کی ذمہ داری اور آفات سے نمٹنے کا معاملہ،دہشتگردی کے آپریشن کے بعد سول سیٹ اپ نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کیا ہم نے پوسٹ جنگ اقدامات نہیں کیے ان علاقوں میں سول سیٹ اپ کو مضبوط نہیں کیا لوگوں کی احساس محرومی کو ختم نہیں کیا دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے والے علاقوں پر توجہ نہیں دی گئی خدارا حالات کی سنگینی کا ادراک کریں ذاتی لڑائیاں چھوڑ کر استحکام کے لیے اقدامات کیے جائیں مداخلت کو روکنے کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جائے دہشتگردی کے خلاف آپریشن کی تیاریاں کرنے والی فوج کے پیچھے پوری قوم کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا ہونے کا عزم کرنا چاہیے