سیاسی طوطے کی جان پنجاب اسمبلی میں

بچپن میں ہم کہانیاں پڑھا کرتے تھے کہ جادوگر نے خوبصورت شہزادی کو قید کر رکھا ہے اور جادوگر تک پہنچنا بہت مشکل ہے اگر کوئی شہزادہ جان جوکھوں میں ڈال کر جادوگر تک پہنچ بھی جاتا تو وہ طاقتور جادوگر سے مقابلہ نہ کر پاتا آخر کار اسے پتہ چلتا کہ جادوگر کی جان فلاں جگہ پر رکھے ہوئے پنجرے میں بند طوطے میں ہے اور جب وہ شہزادہ بڑی مشکلوں کے بعد اس پنجرے تک پہنچ جاتا تو وہ جونہی پنجرے سے نکال کر طوطے کی گردن مروڑتا سب جادو فشوں ہو جاتا اور شہزادہ شہزادی کو رہا کروا کر لے جاتا اسی قسم کا معاملہ ہمارے سیاسی سیٹ اپ کے ساتھ ہے تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان جلد الیکشن کروانے کے لیے پچھلے آٹھ نو ماہ سے مختلف جتن کر رہے ہیں اتنی لمبی اور جان لیوا جدوجہد کے بعد عمران خان کو پتہ چلتا ہے کہ اس سارے سیاسی سیٹ اپ کی جان پنجاب اسمبلی کے طوطے میں ہے جب تک پنجاب اسمبلی کے طوطے کی گردن نہیں مروڑی جاتی اس وقت تک باقی تمام جتن فضول ہیں چنانچہ عمران خان باقی سارے کام چھوڑ کر پنجاب اسمبلی کو توڑنے پر لگ جاتے ہیں لیکن جادوگر بھی بہت ہی کرو قسم کا ہے وہ عمران خان کا ہاتھ پنجاب اسمبلی کی گردن تک پہنچنے نہیں دے رہا وہ درمیان میں کوئی نہ کوئی ایسی رکاوٹ ڈال دیتا ہے عمران خان پھر دیکھتا ہی رہ جاتا ہے عمران خان بھی اپنی ضد کا پکا ہےوہ جس کام کے پیچھے پڑ جاتا ہے کر کے ہی چھوڑتا ہے اس کا ماضی بتاتا ہے کہ لوگ کہتے تھے یہ کبھی فاسٹ باولر نہیں بن سکتا اس نے اتنی محنت کی کہ آخر کار وہ دنیا کا ٹاپ کلاس کا باولر بن گیا پھر اس نے دنیا کرکٹ پر حکمرانی کا تہیہ کر لیا اور آخر کار وہ ورلڈ کپ جیت کر واپس مڑا پھر اسے اپنی والدہ کی وفات کے بعد کینسر ہسپتال کے قیام کی سوجی ساری دنیا کے ماہرین نے بتایا کہ یہ بہت مہنگا پراجیکٹ ہے تم نہیں کر پاو گے اگر تم نے ہسپتال بنا بھی لیا تو یہ چل نہیں پائے گا عمران خان نے نہ صرف ہسپتال بنایا بلکہ اب تو کئی ہسپتال بنا لیے ہیں اور کامیابی کے ساتھ چل بھی رہے ہیں

جنگل میں بین الاقوامی معیار کی نمل یونیورسٹی بھی بنا دی جہاں غیر ملکی فیکلٹی بھی مہیا کر دی پھر نہ جانے اسے کس نے سیاست میں آنے کا مشورہ دے دیا اور اس نے وزیر اعظم بننے کا خواب اپنی آنکھوں میں سجا لیا ایک کھلاڑی کا سیاست کی چالبازیوں سے کیا لینا دینا دنیا نے حسب روایت پھر کہا کہ عمران زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر رہا ہے اچھی بھلی عزت بنی ہوئی ہے یہ سیاست میں ذلیل ہو جائے گا اس کو اپنی زندگی کے اس مشکل ترین منصوبے میں بڑا لمبا عرصہ جدوجہد کرنا پڑی لیکن آخر کار وہ کامیاب ہو گیا 2018 کے انتخابات جیت کر وہ وزیراعظم بن گیا عمران خان نے ساری زندگی ناممکن کاموں میں ہاتھ ڈالا ہے ہر موقع پر اسے کامیابی ملی ہے اصل میں دنیا میں کوئی کام ناممکن نہیں ہوتا اصل بات ہوتی ہے کہ آپ کس جذبے اور حوصلے سے جدوجہد کرتے ہیں کوئی جلدی حوصلہ ہار جاتے ہیں کچھ مشکلات کا مقابلہ کرتے کرتے تھک کر ارادے بدل لیتے ہیں اور منزل اسے ملتی ہے جو کمٹمنٹ کے ساتھ جہد مسلسل میں مصروف رہتا ہے عمران خان کو جس دن سے اقتدار سے علیحدہ کیا گیا ہے وہ ایک دن بھی سکون سے نہیں بیٹھا اور نہ اس نے دوسروں کو بیٹھنے دیا ہے وہ جہد مسلسل میں لگا ہوا ہے عوام کے دلوں میں وہ گھر بنا چکا ہے اور جس لگن سے وہ کوشش کر رہا ہے آخر کار اس نے ان سب مخالف سیاستدانوں کو لے بیٹھنا ہے کیونکہ اس کے مخالفین میں سے کسی میں اس جتنی جدوجہد کا نہ حوصلہ ہے نہ سٹیمنا ہے وہ روزانہ دیوار میں ٹکر مار رہا ہے اس نے اتنی ٹکریں مار دی ہیں کہ اب دیوار ہلنا شروع ہو گئی ہے جو کسی وقت بھی گر سکتی ہے یہ آخری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں کہ کسی طرح پنجاب اسمبلی کے طوطے کو بچا کر چار دن مزید نکال لیں ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے منصوبے کے مطابق کچھ وقت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں لیکن جو یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان تھک کر یا مایوس ہو کر بیٹھ جائے گا یہ ان کی غلط فہمی ہے وہ ہرقسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار ہے اور پیچھے مڑ کر دیکھنے کا بھی قائل نہیں بات پنجاب اسمبلی کی ہو رہی تھی شاید اب وزیر اعلی پنجاب اعتماد کا ووٹ نہ لے کر معاملات کو ایسے ہی چلانا چاہتے ہیں لیکن عمران خان ایسے معاملات کو نہیں رکھنا چاہتا ٹیکنیکل پرابلم کی وجہ سے جیسے کہ عدالتی معاملہ ہے وہ کچھ انتظار تو کر سکتا ہے لیکن وہ اسے ایسے ہی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں صورتحال بڑی دلچسپ ہے تحریک انصاف صرف اس لیے چوہدری پرویز الہی کو جلد از جلد اعتماد کا ووٹ دلوانا چاہتی ہے تاکہ ان میں اسمبلی توڑنے کی شکتی آسکے اور جونہی وہ اعتماد کا ووٹ لے لیں ان سے اسمبلی تڑوا دی جائے وزیر اعلی مارچ تک کا وقت چاہتے ہیں پتہ نہیں شیخ رشید بھی مارچ تک الیکشن شیڈول آنے کی بات کرتے ہیں حکومت کے بعض اتحادی بھی اکتاہٹ محسوس کر رہے ہیں کیا ہوتا ہے کیا ہونے جا رہا ہے ابھی تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا