142

تبدیلی کا وقت

تحریک انصاف نوجوانوں کی جماعت سمجھی جاتی ہے بلاشبہ تحریک انصاف کو دوام بخشنے میں نوجوانوں اور خواتین کا بنیادی کردار ہے یہاں تک کہ بڑے بڑے جید قسم کے سیاستدانوں کو ان کی اولادوں نے مجبور کر کے تحریک انصاف کی راہ دکھائی عمران خان خود نوجوانوں کو پسند کرتے ہیں 2013 کے انتخابات میں عمران خان نے روائیتی سیاستدانوں کی بجائے نوجوانوں کو میدان میں اتارا اور انھوں نے اچھے خاصے ووٹ حاصل کیے 2018 کے انتخابات میں جبکہ تحریک انصاف قابل قبول جماعت بن چکی تھی اور اس کی کامیابی کےکافی امکانات تھے لیکن یہاں عمران خان کے بعض قریبی ساتھیوں نے انھیں قائل کر لیا کہ انتخابات لڑنا ایک سائنس ہے جو فریش لوگوں کو نہیں آتی اس لیے آپ کو الیکٹ ایبلز پر انحصار کرنا پڑے گا چنانچے عمران خان نے کچھ نئے اور کچھ الیکٹ ایبلز کو میدان میں اتارا اور کامیاب ہو کر حکومت بنائی لیکن عمران خان نے قوم کو جو خواب دکھایا تھا اس کی تعبیر نہ مل سکی عمران خان سے وابستہ توقعات پوری نہ ہو سکیں بیوروکریسی نے عمران خان کا ساتھ نہ دیا اور احتساب کے خوف نے سسٹم کو جامد کر دیا کیونکہ تمام طاقتور لوگ احتساب نہیں چاہتے تھے اوپر سے کرونا آ گیا عمران خان کو نہ تو کھل کر کام کرنے کا موقع ملا اور نہ حالات سازگار رہے بہر حال عمران خان روائیتی سیاستدانوں کے گھیرے میں رہے عمران خان کا سب سے متاثر کرنے والا سلوگن روائیتی سیاستدانوں سے جان چھڑوانا تھا لیکن جب عمران خان نے 2018 کے انتخابات میں ان ہی روائیتی سیاستدانوں کو اپنا امیدوار بنایا تو انھیں بڑےعرصے تک تنقید کا سامنا کرنا پڑا میری ذاتی رائے ہے کہ اگر 2018 میں عمران خان الیکٹ ایبلز پر تکیہ نہ کرتے بے شک انھیں 2018 میں اقتدار نہ ملتا لیکن ایک حقیقی تبدیلی جنم لیتی اور تمام روائیتی سیاستدانوں کی چھٹی ہو جاتی اور حقیقی تبدیلی آتی وقت نے ثابت کیا کہ تحریک انصاف کا جو حقیقی سٹف تھا وہ زیادہ محنتی، ایماندار، باوفا اور کچھ کرگزرنے کا عزم رکھتا تھا پنجاب اور وفاق میں وفاداریاں فروخت کرنے والوں میں زیادہ تر تعداد روائیتی سیاستدانوں کی تھی اب ایک بار پھر روائیتی سیاستدانوں کی تحریک انصاف میں شمولیت کی یلغار ہے ان سب لوگوں کو پتہ ہے باقی جماعتوں کے پلے اب کچھ نہیں رہا صرف تحریک انصاف ہی انھیں اقتدار میں لے جا سکتی ہے اس لیے اب سارے لوگ تحریک انصاف کا رخ کر رہے ہیں آج تحریک انصاف اس پوزیشن میں آچکی ہے کہ اس کے کمزور امیدوار بھی آسانی سے جیت سکتے ہیں ایسے ماحول میں فیصلہ عمران خان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ روائیتی سیاستدانوں کو اپنی ٹیم کا حصہ بناتے ہیں یا اپنی جماعت کی سوچ رکھنے والے سیاسی کارکنوں کوموقع دیتے ہیں اگر عمران خان ملک میں کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں تو انھیں زیادہ تر انحصار اپنے کارکنوں پر کرنا چاہیے روائیتی سیاستدان سٹیٹس کو سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ان کی سوچ پختہ ہو چکی ہے وہ تبدیلی کے کاریگر ثابت نہیں ہو سکتے اس لیے یہ بہترین موقع ہے عمران خان نئی پڑھی لکھی جذبوں والی ٹیم کے ساتھ میدان میں اتریں اور ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے ابھی سے ہر شعبہ کے بارے میں اپنا ہوم ورک عوام کے سامنے رکھیں کس شعبہ کو کس طرح مضبوط کرنا ہے ملک کی تعمیر نو کا ایجنڈا کیا ہے اس پر بات کریں قوم کو بتایا جائے کہ ان کی ترجیحات کیا ہوں گی کتنی دیر میں ڈمیجز کلیر ہوں گے کتنی دیر میں ریکوری پراسس مکمل ہو گا کس طرح بہتری لائی جائے گی روائیتی سیاستدانوں کی طرح آوئے ای آوئے سے باہر نکل کر ایشوز بیسڈ الیکشن لڑا جائے اپنے امیدواران سے بھی پوچھیں ان کا کیا ایجنڈا ہے وہ عوام کی سہولت کے لیے کیا آسانیاں پیدا کریں گے اور آئیندہ اس امیدوار کو دوبارہ ٹکٹ دیا جائے جس نے عوام کی خدمت کی ہو اسمبلیوں میں حاضری اور ہاتھ کھڑے کرنے سے آگے بڑھ کر گراس روٹ لیول پر خدمات کو کارکردگی کی بنیاد بنایا جائے عوام کو مشاورت میں شریک کیا جائے لوگوں کو مایوسی سے نکالنے کے لیے انھیں اعتماد میں لیا جائے