آئین کا مقدمہ

اس سال کو آئین کی گولڈن جوبلی کے طور پر منایا جا رہا ہے آج سے 50 سال قبل اس مملکت خداداد کو ایک متفقہ آئین نصیب ہوا تھا بلاشبہ یہ ذوالفقار علی بھٹو کا بہت بڑا کارنامہ تھا خاص کر تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اکھٹا کرکے ان میں اتفاق رائے قائم کرنا بہت بڑا کام تھا ان میں ایسی سیاسی جماعتیں بھی شامل تھیں جو ذوالفقار علی بھٹو کی شدید مخالف تھیں نظریاتی اختلافات اتنے خوفناک تھے کہ تصور نہیں کیا جا سکتا اس سے قبل 25 سال تک ہم ڈنگ ٹپاو طریقوں سے ملک کو چلاتے رہے(ویسے ابھی تک ہم آئین کے باوجود ملک کو ڈنگ ٹپاو طریقوں سے ہی چلا رہے ہیں )ملک ٹوٹ جانے کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ کوئی کل وقتی سسٹم ہونا چاہیے اور سب کو اس کے مطابق معاملات چلانے چاہیں لیکن بعد کے حالات واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ اس متفقہ آئین نے بھی ہمارا کچھ نہیں سدھارا ہمارے آئین پر شخصیات بھاری ثابت ہوتی رہیں اور جس نے جب جی چاہا آئین کو مروڑ کر اپنی خواہشات کے تابع کر لیا ہم نے آئین کے تابع چلنا تھا لیکن آئین ہمارے تابع رہا آئین کی اگر زبان ہوتی تو وہ آج اپنی گولڈن جوبلی پر چیخ چیخ کر پکار رہا ہوتا، میرے نال کیتی کی جے، ہم نے گاہے بگاہے آئین میں اتنی ترامیم کر ڈالی ہیں کہ اس کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے اصل آئین ان ترامیم میں کہیں چھپ کر رہ گیا ہے جس کا زور چلا ہے اس نے اپنی مرضی سے ترامیم کیں اور یہ ساری ترامیم گواہ ہیں ان میں زیادہ تر ترامیم شخصیات نے اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے لیے یا زیادہ سے زیادہ اختیارات اپنے گرد جمع کرنے کے لیے مخالفین کے راستے بند کرنے کے لیے کی گئی ہیں اگر صدر مملکت کا بس چلاتو اس نے تمام تر اختیارات اپنے گرد جمع کر کے وزیر اعظم کو ڈمی بنا دیا جب وزیر اعظم کا زور چلا اس نے سارے اختیارات اپنے گرد جمع کرکے صدر کو سٹیچو بنا کر رکھ دیا پاکستان کے آئین کو موم کی ناک بھی کہا جاتا ہے جس کو جس طرف چاہو مروڑ لو یہاں تک مختلف اوقات میں ہم آئین کی تشریح بھی اپنے مطلب کی نکال لیتے ہیں جس طرح آج کل ہمارے حکمران اسمبلیوں کی تحلیل پر کہہ رہے ہیں کہ اگر گورنر الیکشن کی تاریخ نہ دیں تو الیکشن نہیں ہو سکتے اسی طرح کبھی ہم اسمبلیاں توڑنا آئینی حق سمجھتے ہیں اور کبھی غیر آئینی کبھی ہم آئین کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے شریف الدین پیرزادہ جیسے لوگ ڈھونڈنے ہیں تو کبھی مولانا فضل الرحمن آئین کی دفعات کا مکسچر بنا کر کہتے ہیں ایسے بھی ہو سکتا ہے اگر حقیقت مانیں تو ہم نے آئین کا مذاق بنا کر رکھ دیا ہے 1973کے آئین کے سب سے بڑے علمبردار میاں رضا ربانی سمجھے جاتے ہیں جنھوں نے اس سال کو آئین کی گولڈن جوبلی کے طور پر منانے کی تجویز دی تھی وہ اکثروبیشتر آئین کے حوالے سے آواز اٹھاتے رہتے ہیں میری ان سے گزارش ہے کہ وہ ذرا آئین کی تمام شقوں کو سامنے رکھ کر ایک ریویو تحریر کریں کہ عوامی مفاد کی کون کون سی دفعات پر عمل ہو رہا ہے اور کون سی دفعات ایسی ہیں جو صرف دکھاوئے کے لیےآئین میں موجود ہیں لیکن چونکہ ان دفعات کے ذریعے سے عوام کو حقوق دینے پڑتے ہیں اس لیے ان پرآج تک عملدرآمد نہیں ہوسکا اس سے بڑھ کر اور منافقت کیا ہو گی کہ آئین پاکستان نے اپنے شہری کو جو بنیادی حقوق دے رکھے ہیں ریاست نے وہ بھی غضب کر رکھے ہیں اور ایسی تمام تر شقیں غالب ہیں جن کے ذریعے حکمرانوں نے اپنے اختیارات ایکسرسائز کرنے ہوتے ہیں عوام کو تحفظ دینے کی تمام شقیں جامد ہیں حکمرانوں کو فائدہ پہنچانے والی تمام شقیں ایکٹیو ہیں ہر حکمران اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے لیے اختیارات جمع کرنے کے لیے اور اپنی من مرضی چلانے کے لیے آئین کو جس طرف چاہے مروڑ لیتا ہے آئین کی جن شقوں پر عمل نہیں ہونا انھیں پھر آئین سے نکال دیں رضا ربانی صاحب نیب قوانین میں ترامیم کے بارے میں بتا دیجیے اس کا فائدہ 22کروڑ عوام میں سے کتنوں کو پہنچا ہے 21 کروڑ 99 لاکھ 87 ہزار افراد کو اس کا کوئی فائدہ نہیں صرف آڑھائی تین ہزار افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے نیب کا تیا پانچہ کر دیا ہے اور آج کل عدالتوں کو تابع کرنے کے لیے ترامیم کرنے بارے شب خون مارنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں دنیا میں کوئی قانون اور آئین اس وقت تک کارآمد نہیں ہو سکتا جب تک اس ریاست کا عام آدمی مطمئن نہ ہو آپ کا آئین عام آدمی کو بنیادی حقوق دینے میں ناکام ہے اس لیے آپ اس کو بے شک سونے سے لکھ لیں اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ عام آدمی کو اطمینان حاصل نہیں نہ ہی آپ کے آئین پر عام آدمی کو اعتماد ہے خدارا اگر آپ آئین کے خیر خواہ ہیں تو اس کو صیح سپرٹ کے ساتھ نافذ کروائیں۔