Warning: Undefined array key "geoplugin_countryName" in /customers/9/f/a/urdunama.eu/httpd.www/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341

منافقت کی انتہا

پورے ملک میں ایک ہی بات زیر بحث ہے نیا آرمی چیف کون ہو گا کوئی دوست مل جائے وہ بھی سب سے پہلے پوچھے گا کون آرمی چیف آ رہا ہے کسی سیاستدان کو فون کر لیں وہ بھی کہے گا کسے لا رہے ہیں کسی افسر کے پاس چلے جائیں وہ بھی یہی بات کرے گا کس کے آرمی چیف بننے کے زیادہ چانسز ہیں واک کرتے ہوئے لوگ روک روک کر پوچھتے ہیں کون آرمی چیف آ رہا ہے حتی کہ ایسے لوگ جن کو نہ سیاست سے دلچسپی ہے نہ حالات سے وہ اپنی مستی میں مست رہتے ہیں وہ بھی پوچھتے ہیں کون آرہا ہے ہرمحفل میں کوئی اور بات زیر بحث آئے نہ آئے آرمی چیف کی تعیناتی پر ضرور بات ہوتی ہے یہاں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں یہ تعیناتی کتنا بڑا فیصلہ ہے اور کتنا اہم فیصلہ ہے اس فیصلہ کی اتنی اہمیت کیونکر ہے یہ ہم آپ پر چھوڑتے ہیں اس پر آپ خود ہی غور فرمائیں حالانکہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے واضح اعلان ہو چکا کہ ہم نے سیاسی معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے اس کے باوجود ملک بھر کے تمام سیاستدانوں کی نظریں جی ایچ کیو پر لگی ہوئی ہیں اس وقت حکومت کو کسی معاملہ کی کوئی فکر نہیں صرف ایک ہی فکر کھائے جا رہی ہے یااللہ ہمارا پسندیدہ بندہ آجائے جو ہمارے اقتدار کی راہ ہموار کر دے ساری دنیا جانتی ہے کہ اس کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلے جا رہے ہیں حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ جس نے بھی آرمی چیف لگایا اس کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ہر سیاستدان آرمی چیف کا نام استعمال کر کے اپنی سیاست کو چمکانے کی کوشش کرتا ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کو روٹین ورک ہی رہنے دیا جاتا لیکن ہم نے اسے ہر خاص وعام کی دلچسپی کا محور بنا دیا ہے اس کا اندازہ یہاں سے لگائیں کہ وزیر اعظم شرم الشیخ سے سیدھے لندن پہنچتے ہیں وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیراعظم کے مشیر خاص ملک محمد احمد خان کو بھی خصوصی طور پر لندن بلوایا جاتا ہے خواجہ آصف لندن سے ایک ٹی وی پروگرام میں کہتے ہیں کہ ہم آرمی چیف کی تعیناتی پر مشاورت کے لیے میاں نواز شریف کے پاس آئے ہیں تینوں شخصیات جو میاں نواز شریف کو ملنے لندن گئیں وہ آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے کتنی کنسرن ہیں اس سے سارا معاملہ واضح ہو جاتا ہے آرمی چیف کی تعیناتی کی سمری وزارت دفاع سے آنی ہے اس لیے وزیر دفاع وہاں موجود تھے وزیر اعظم نے دستخط کرکے سمری واپس بھیجنی ہے وہ بھی موجود تھے ملک محمد احمد خاں مسلم لیگ ن اور اسٹیبلشمنٹ کے رابط کار کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں وہ اتنے اہم کس طرح ہو گئے خاص لوگ تو جانتے ہیں لیکن عام لوگوں کو اس کا علم نہیں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے اور پی ڈی ایم کی حکومت بنانے میں ان کا اہم کردار ہے انھوں نے اسٹیبلشمنٹ میں پی ڈی ایم خصوصی طور مسلم لیگ ن کے درمیان وچولے کا کردار ادا کیا اور آج بھی رابطہ کاری کر رہے ہیں اسی وجہ سے انھیں وزیراعظم کا مشیر خاص بنایا گیا وہ بھی وہاں موجود تھے وہاں سارے معاملات طے ہو چکے وہاں فیصلہ ہوا کہ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف بنانے کی راہ ہموار کی جائے اس ایجنڈے کو عام کرنے کے لیے خوبصورت الفاظ کا چناو کیا گیا اور میرٹ کی بالادستی کے اصولی موقف کو سربلند کرنے پر اتفاق کیا گیا کہ اس بار موسٹ سنیر کو ہی آرمی چیف بنایا جائے گا اس کی بھنک جب عمران خان کو پڑی تو انھوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا کیونکہ ان کو مذکورہ نام پر تشویش ہے اور تشویش کی وجوہات کا باخبر لوگوں کو علم ہے عمران خان نے اس مشاورت کو سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دیا اور شور مچا دیا کہ ملک کے اہم فیصلے لندن میں ہو رہے ہیں جس پر وزیر دفاع کو بھی یو ٹرن لینا پڑا کہ نہ ہی آرمی چیف کی تعیناتی کا ابھی کوئی فیصلہ ہوا ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی مشاورت ہوئی ہے حالانکہ میاں شہباز شریف صاحب وڈے پا جی کا فیصلہ لے کر واپس پہنچ چکے ہیں وہ بڑے بھائی کی خواہش پوری کر پاتے ہیں یا نہیں یہ وقت بتائے گا کیونکہ پاکستان میں کس وقت کیا ہو جائے کوئی پتہ نہیں آرمی چیف کی تعیناتی کے پراسس کی کنجی سیکرٹری دفاع کے پاس ہے وہ والا دروازہ ابھی کھل نہیں رہا اس لیے پراسس ابھی شروع نہیں ہوا وہاں سے کیا سمری آتی ہے کس وقت آتی ہے اس میں کون سے نام ہوں گے اس کا فیصلہ کہیں اور سے ہونا ہے لہذا ابھی کچھ دنوں تک آپ کو اسی ماحول میں رہنا پڑے گا حکومت بھی سارے کام چھوڑ کر تعیناتی کے عمل کو یقینی بنانے پر لگی ہوئی ہے اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی بھی پوری توجہ اسی طرف ہےاور وہ اپنے مقصد کے لیے دباو بڑھا رہے ہیں الیکشن کی تاریخ سکینڈری ہو چکی سارے سیاستدان ایک طرف کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے دوسری طرف آرمی چیف کی تعیناتی پر سیاست کر کے اسٹیبلشمنٹ کو خواہ مخواہ سیاست میں گھسیٹ رہے ہیں یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے دونوں دھڑے اپنی مستقبل کی سیاست کو محفوظ کرنے کے لیے نظریں کہیں اور لگائے بیٹھے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ان کی قسمت کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے