Warning: Undefined array key "geoplugin_countryName" in /customers/9/f/a/urdunama.eu/httpd.www/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
181

عوام خوابِ غفلت سے جاگیں

یہ لندن کی ایک نجی محفل کا احوال ہے جس میں پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے حامی مرد اور خواتین بھی موجود تھے۔ پاکستان سے آئے ہوئے بائیں بازو کے ایک دانشور ان سے مخاطب تھے۔ پاکستان کے حالات کے بارے میں ان کا دلچسپ تجزیہ سننے والوں میں مجھ سمیت اور بہت سے اوورسیز پاکستانی بھی شامل تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ہم سب پاکستانی جن عیار سیاستدانوں کے چنگل میں پھنس چکے ہیں وہ سب اقتدار پرست اور اپنے مفادات کے پجاری ہیں۔ انہیں ہر دور میں ایسے بیوقوف عوام کی حمایت درکار ہوتی ہے جو جذباتی اور نعرے باز ہوں۔ شخصیت پرستی پرفخر کرتے اور جمہوریت کے نام پر فریب کھانے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہوں۔ ہمارے یہ سیاستدان اپنی کارستانیوں سے کبھی باز نہیں آ سکتے۔ اس لئے یہ توقع نہ رکھیں کہ ہمارے یہ سیاستدان اور حکمران تبدیل ہو جائیں گے اور ملک و قوم کو ترقی یافتہ اور خوشحال بنانے کے لئے کوئی تبدیلی لے کر آئیں گے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ عوام اب مزید ان کے دھوکے میں نہ آئیں بلکہ خود کو تبدیل کریں کیونکہ جس دن سے ہمارے ملک کے عوام ٹھیک ہونے کا تہیہ کریں گے اُسی دن سے پاکستان کے حالات بدلنا شروع ہوں گے۔ ملک کے عوام اگر دیانتداری، رواداری، انصاف پسندی، قانون کے احترام، حق اور سچ کی حمایت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں۔

دغابازی، منافقت، خوشامد اور غیبت کو اپنے معمولات زندگی سے نکال دیں،جھوٹی شان و شوکت سے مرعوب نہ ہوں۔ سادگی اور صفائی کو اپنائیں اور کم بچے پیدا کریں تو اس سے نہ صرف ہماری اپنی بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی زندگی بھی آسان ہو جائے گی۔ یہ نہ سوچیں کہ اس ملک نے آپ کو کیا دیا بلکہ اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ اپنے ملک کو کیا دے رہے ہیں۔ آج اگر ہمیں ہر وہ شخص برا لگتا ہے جو ڈسپلن(نظم و ضبط)، اصول پسندی، قانون کے احترام، وقت کی پابندی اور سادہ زندگی گزارنے کا پرچار کرکے خود بھی اس پر عمل کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے کہ پاکستان کے حالات کو اس نہج تک پہنچانے میں ہمارا کتنا ہاتھ ہے۔ ہر خرابی کے لئے اپنے سیاستدانوں اور حکمرانوں پر ملبہ ڈال دینا ہی کافی نہیں۔ نواز شریف اور بھٹو فیملی سے لے کر عمران خان اور مذہبی رہنماؤں تک ہر ایک کو اپنے عوام کی نفسیاتی کمزوریوں کا پوری طرح ادراک ہے۔ اسی لئے وہ عوام کو چکمہ دینے کے لئے وہی حربے استعمال کرتے ہیں جو آزمودہ ہیں اور کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے تمام سیاستدانوں اور حکمرانوں کی طرح عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے ارباب اختیار بھی یہ دعوے کرتے نہیں تھکتے کہ انہوں نے ملک و قوم کے لئے سب اچھے کام کئے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ملک کے زوال کا ذمہ دار کون ہے؟ جب تک ہمارے ملک میں معیاری پرائمری تعلیم و تربیت کو ہر ایک کے لئے لازمی نہیں بنایا جائے گا۔ اس وقت تک ہماری قوم کا مستقبل مخدوش رہے گا کیونکہ جاہل اور غیر تربیت یافتہ لوگوں کی برین واشنگ بڑی آسانی سے کی جا سکتی ہے اور ہمارے ملک میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ملک کی آدھی آبادی کی برین واشنگ ہمارے جاہل مّلا اور مذہبی ٹھیکیدار کر رہے ہیں اور باقی آدھی آبادی کی برین واشنگ کا ٹھیکہ ہمارے نام نہاد سیاستدانوں نے لے رکھا ہے۔ اس ملک اور قوم کا مستقبل اس وقت تک تابناک نہیں ہو سکتا جب تک عوام اپنے طرز عمل اور طرز زندگی کو ٹھیک نہ کریں کیونکہ افراد کے ہاتھوں میں ہی اقوام کی تقدیر ہوتی ہے اور ہر فرد اپنی ملت کے مقدر کا ستارہ ہوتا ہے۔

تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو موجودہ حالات میں اندرونی اور بیرونی خطرات اور سازشوں کا سامنا ہے۔ ہمارے دشمن ملکوں کو اندازہ ہے کہ پاکستان کی سرحدیں محفوظ ہیں اور ایٹمی قوت ہونے کی وجہ سے وہ پاکستان پر حملے کی جرأت نہیں کر سکتے۔ اسی لئے انہوں نے پاکستان کو اقتصادی طور پر کمزور کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہمارے دشمنوں کو معلوم ہے کہ جب تک ہم منتشر رہیں گے ہمارے اندر حب الوطنی کا جذبہ نہیں پنپ سکے گا۔ اسی لئے وہ جاہل ملّاؤں کے ذریعے (جو کہ ہمارے دشمنوں کے ایجنٹ ہیں) ہمیں فرقہ واریت کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں اور قوم پرستی کے نام پر ہمیں پنجابی، سرائیکی، سندھی، بلوچی اور پشتون میں تقسیم کر دیا گیا ہے اور یہ کام بھی پاکستان دشمنوں کے ایجنٹوں (نام نہاد قوم پرست لیڈرز) کے ذریعے کیا جا رہا ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے خطیر وسائل صرف کئے جا رہے ہیں۔ شخصیت پرستی فرقہ واریت اور قوم پرستی ہی وہ حربے ہیں جن کو کامیاب کرنے کے لئے پاکستان میں ایجنٹوں کی کمی نہیں۔ تقسیم شدہ اور بکھری ہوئی قوم ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف نفرت کو ہوا دینے میں مصروف رہتی ہے اور اب سوشل میڈیا اس آگ کو بھڑکانے میں پیٹرول کا کام کرتا ہے۔ نفرت سے لبریز قومیں ایک دوسرے کی گردنیں اتارنے کے درپے رہتی ہیں۔ ان کے لئے ملک و قوم کی اقتصادی ترقی اور سماجی خوشحالی بہت ثانوی حیثیت رکھی ہے۔ جس ملک کے عوام کی اکثریت جاہل اور ان پڑھ ہو وہاں نفرتوں، فرقہ واریت اور قوم پرستی کے بیج بونے کے لئے زمین بہت زرخیز ہو جاتی ہے۔ پاکستان سے آئے ہوئے ان دانشور کا وطن عزیز کے حوالے سے تجزیہ سن کر ہم سب تارکین وطن نے ان کے خیالات کو سراہا۔ میں نے ان سے استفسار کیا کہ ان حالات میں اوورسیز پاکستانی کو کیا کرنا چاہئے یا وہ اپنے ملک کی اقتصادیات کی بہتری کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ پاکستانی مقیم ہیں۔ بالخصوص مڈل ایسٹ، امریکہ اور برطانیہ کے اوورسیز پاکستانیوں کو چاہئے کہ وہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی برانچیں بالکل نہ بنائیں اور نہ ہی پاکستان سے آنے والے سیاستدانوں کو استقبالیے دیں یا ان کی میزبانی کے لئے ان کے آگے پیچھے پھریں۔ اپنے وسائل کو ضائع نہ کریں جو زرمبادلہ وہ مفاد پرست سیاستدانوں کی پذیرائی پر خرچ کرتے ہیں اس سے پاکستان میں کسی غریب طالب علم کو سپانسر کریں تاکہ وہ اعلیٰ اور معیاری تعلیم حاصل کر سکے۔ دوسرا کام اوورسیز پاکستانیوں کو یہ کرنا چاہئے کہ اپنے خاندان کے کسی ایک فرد کو بیرون ملک بلا لیں کیونکہ ایک فرد کے باہر آ جانے سے کم از کم ایک خاندان کے مالی حالات بہتر ہو جاتے ہیں۔

ہمیں یہ حقیقت جتنی جلدی سمجھ آ جائے اتنا ہی اچھا ہے کہ ہمارے دشمن ہمیں سرحدوں پر سے مارنے کی بجائے ہماری سرحدوں کے اندر سے اپنے ایجنٹ بھرتی کر کے ان کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کر رہے ہیں اور اس کام کے لئے وہ پیسے اور وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔کئی دہائیوں پہلے انہوں نے پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے فرقہ واریت اور قوم پرستی کی فصل بوئی تھی اوراب وہ پک کر تیار ہو چکی ہے۔ اگر آپ جائزہ لیں کہ فرقہ واریت پھیلانے والے جاہل ملّاؤں اور قوم پرستی کو ہوا دینے والے لیڈرز کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟اور ان کے پاس پیسہ اور وسائل کہاں سے آتے ہیں؟ تو ساری حقیقت واضح ہو کر سامنے آ جائے گی۔یہی وہ لوگ ہیں جو عوام میں نفرتیں پھیلا کر دشمن کے مقاصد کی تکمیل کر رہے ہیں۔ ہمارے دشمنوں کو پوری طرح اس حقیقت کا پتہ ہے کہ اگر پاکستانی متحد ہو کر ملک و قوم کے لئے کام کرنے لگ گئے تو وہ ہر طرح کی اقتصادی غلامی اور بیرونی قرضوں کی لعنت سے نجات حاصل کر لیں گے۔ اسی لئے ان کی ہر ممکن کوشش ہے کہ پاکستان پر کرپٹ سیاستدان، فرقہ واریت کی آگ بھڑکائے رکھنے والے جاہل ملّا اور قوم پرستی کے نام پر نفرتوں کے بیج بونے والے نام نہاد لیڈرز یونہی مسلط رہیں اور عوام کے جذبات اور جاہلانہ نفسیات کو استعمال کر کے پاکستان کو کمزور سے کمزور تر کرنے کا مشن جاری رکھیں۔ اب بھی وقت ہے کہ عوام خواب غفلت سے جاگیں سیاستدانوں اور حکمرانوں سے کوئی توقع رکھنے کی بجائے اپنی تقدیر آپ بدلنے کے لئے ہوش کے ناخن لیں پاکستان دشمن ایجنٹوں کی چال کو سمجھیں وگرنہ کہتے ہیں کہ غافل کی آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب بند ہونے کے قریب ہوتی ہے۔