168

ٹریفک

ہم جیسے ہی رباط کے ہوائی اڈے سے باہر نکلے ہرطرف سے بے ہنگم ٹریفک شہر جانے والے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ ہماری ٹیکسی کو ہوائی اڈے کی حدود سے نکلنے میں خاصا وقت لگ گیا۔ میرے ساتھ بیٹھا ہوا میرا دوست بڑبڑانے لگا۔ وہ لندن سے جب بھی کسی دوسرے ملک جاتا ہے تو وہاں کی ٹریفک کی ترتیب یا بے ترتیبی دیکھ کر اندازہ لگانے لگتا ہے کہ اس ملک میں بسنے والی قوم یا لوگوں کا مزاج اور طرزِ زندگی کیسا ہو گا۔ میں اُسے کئی بار سمجھانے کی کوشش کر چکا ہوں کہ اِن چھوٹی چھوٹی باتوں سے ملکوں اور قوموں کے بارے میں فیصلہ صادر کرنا درست نہیں لیکن وہ کہتا ہے کہ بات تربیت اور ضابطے کی ہے۔ جس ملک کے لوگ ٹریفک کے قوانین(جس سے اُن کی اپنی ہیلتھ اینڈ سیفٹی کا تعلق ہے) پر عمل نہیں کر سکتے تو وہ زندگی کے دیگر معاملات میں بھی قوانین اور ضابطوں کی پابندی نہیں کرتے۔ ٹریفک کا نظام کسی بھی ملک کے لوگوں کی تربیت اور قانون کی پاسداری کو جانچنے کا پیمانہ ہے۔ میرے یہ دوست درجنوں ملکوں کی سیاحت کر چکے ہیں۔ یہ جس کسی نئے ملک میں جاتے ہیں وہاں مختلف شہروں میں پیدل گھومتے اور پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرتے ہیں۔ عام لوگوں سے ملتے اور اُن کے طرز ِ عمل اور رویوں کا مشاہدہ کرتے ہیں اور پھر واپس لندن آ کر اپنے مشاہدات سے مجھے بھی مستفید کرتے ہیں۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران وہ انڈیا، پاکستان، سوڈان، مصر، سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کی سیاحت کر چکے ہیں۔ اِن ملکوں میں انہوں نے جو کچھ دیکھا اور جن حقائق کا مشاہدہ کیا اس کا موازنہ جب وہ یورپ کے خوشحال ممالک سے کرتے ہیں تو انہیں ٹریفک کا نظام ہی وہاں کے لوگوں کی نفسیات اور مزاج کا آئینہ دار لگتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ تیسری دنیا کے عوام کا وقت ضائع کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں لیکن جیسے ہی وہ موٹر سائیکل اور موٹر کاروں میں سڑکوں پر آتے ہیں تو انہیں جلد از جلد اپنی منزل پر پہنچنے کا خبط لاحق ہو جاتا ہے اور پھر وہ اتنی تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ زیبرا کراسنگ، راؤنڈ اباؤٹ، ٹریفک لائٹس، لین ڈسپلن اور ٹریفک کے بنیادی قوانین کو درخوراعتنا نہیں سمجھتے اور اِن میں سے بہت سے جلد باز خطرناک ٹریفک حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کہنے لگے کہ برطانوی دارالحکومت لندن 88لاکھ سے زیادہ آبادی پر مشتمل بین الاقوامی شہر ہے۔ یہاں 40لاکھ سے زیادہ گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں ہر وقت سڑکوں پر رواں دواں رہتی ہیں۔ شاذو نادر ہی کسی گاڑی کا ہارن سنائی دیتا ہے۔ اس شہر میں ٹریفک کا ڈسپلن دیکھ کر یہاں کے مکینوں کے مزاج کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ میں نے اُن سے استفسار کیا کہ قوموں اور ملکوں کے مزاج کو جانچنے کا کوئی اور پیمانہ بھی ہے یا صرف ٹریفک کا نظام ہی کافی ہے۔ میرا سوال سُن کر وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ وقت کی پابندی، ناپ تول کے نظام اور کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کے رجحان سے بھی اقوام کی مجموعی نفسیات کا ندازہ لگایا جا سکتا ہے جس سے یہ ادراک بھی ہو جاتا ہے کہ اس ملک میں تعلیم و تربیت اور عدل و انصاف کا نظام کس درجے پر ہے۔ میں اپنے دوست کی یہ بات سُن کر سوچنے لگا کہ کیا قوموں کی نفسیات اور مزاج کو پرکھنے کے لئے چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑے بڑے اندازے لگانا درست ہے؟ میں پچھلے برس پاکستان آیا تھا تو مجھے ایک پاکستانی دوست نے بہاول پور سے ملتان تک گاڑی چلانے کے لئے اصرار کیا کیونکہ وہ خود ایک لمبے سفر کی وجہ سے تھکا ہوا تھا میں نے معذرت کی تو وہ کہنے لگا کہ پاکستان میں گاڑی چلانا بہت آسان ہے۔ یہاں بریک سے زیادہ ہارن کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔ باقی ہر سواری کو اپنے سامان کی خود حفاظت کرنا پڑتی ہے۔ میں نے عمران خان کی حکومت کے آغاز میں اپنے ایک کالم میں گزارش کی تھی کہ اگر تبدیلی کی دعویدار قیادت پاکستان میں ٹریفک کے نظام کو ٹھیک کر دے اور آئندہ کسی بھی ڈرائیور کو ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کئے بغیر لائسنس نہ جاری کیا جائے تو اس سے نہ صرف ہماری سڑکیں محفوظ ہو جائیں گی بلکہ جو ہزاروں لوگ ہر سال ٹریفک حادثات میں ہلاک اور اپاہج ہو جاتے ہیں اُن کی زندگیاں بھی بچائی جا سکتی ہیں۔ مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ پاکستان میں جو لوگ ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کئے بغیر لائسنس حاصل کر لیتے ہیں انہیں کیوں اس حقیقت کا اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ یہ غیر قانونی کام کر کے کتنا بڑا رسک لے کر اپنے علاوہ دوسروں کے جان و مال کے لئے بڑا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ پاکستان میں بہت سے معاملات کو بہتر بنانے اور تبدیل کرنے کے لئے وسائل اور سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بہت سے کام ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں بہتری لانے کے لئے کسی قسم کے اضافی وسائل کی بجائے صرف ضابطے اور قانون پر سو فیصد عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ کینیا سمیت دنیا کے بہت سے ملکوں کے ڈرائیونگ لائسنس ایسے ہیں جنہیں برطانیہ میں تسلیم کیا جاتا ہے اور ان ممالک کے ڈرائیونگ لائسنس کو ٹیسٹ دیئے بغیر برطانوی لائسنس میں تبدیل کروایا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستانی ڈرائیونگ لائسنس رکھنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو برطانیہ میں ٹیسٹ پاس کر کے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا پڑتا ہے کیونکہ برطانوی حکام کو معلوم ہے کہ پاکستان میں لوگ کن ذرائع سے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرتے ہیں۔ صرف پاکستانی پاسپورٹ ہی نہیں پاکستانی ڈرائیونگ لائسنس بھی برطانیہ سمیت دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں اپنی وقعت کھو چکا ہے۔ اسی طرح ضروری معاملات میں پاکستان سے جاری ہونے والی دستاویزات اور ڈگریز کوبھی برطانیہ میں اعتبار حاصل نہیں ہے۔ پاکستان میں جعل سازی کا رجحان جس مقام تک پہنچ چکا ہے اس کی وجہ سے اسلام آباد میں موجود غیر ملکی سفارت خانے اور ہائی کمشن اپنی حکومتوں کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہم پاکستانیوں کی کریڈیبلٹی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے مگر اس کے باوجود ہم خود کو دیانتدار قرار دینے کے خبط میں مبتلا ہیں اور اپنے گریبان میں جھانکنے سے ہمیشہ گریز کرتے ہیں۔ پاکستان میں قائم ہونے والی حکومتیں ہی نہیں بلکہ عام لوگوں کی اکثریت بھی اپنی زندگی میں درست ترجیحات کا تعین نہیں کر پاتی جس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی توانائی اور وسائل ضائع ہوتے ہیں بلکہ وہ کسی مقصد اور منزل کے حصول کی بجائے اس سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ جو لوگ زندگی میں شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں اُن کے رستے لمبے ہو جایا کرتے ہیں۔معلوم نہیں ہم مسلمانوں کے لئے صراطِ مستقیم یعنی سیدھے رستے پر چلنا اتنا مشکل کیوں ہوتا جا رہا ہے؟

٭٭٭٭٭٭