Warning: Undefined array key "geoplugin_countryName" in /customers/9/f/a/urdunama.eu/httpd.www/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
134

ویمبلڈن اور لان ٹینس

بہاول پور کے ڈرنگ اسٹیڈیم میں مرکزی دروازے کے بائیں طرف ایک زمانے میں لان ٹینس کا کورٹ ہوا کرتا تھا۔کرکٹ پویلین کے پہلو میں موجود یہ لان ٹینس کورٹ اونچی سبز باڑ سے گھرا ہوا تھا۔ معلوم نہیں اب بھی یہ کورٹ وہیں پر ہے یا کسی اور حصے میں منتقل ہو چکا ہے۔ جب میں ایس ای کالج میں پڑھتا تھا تو سکواش کھیلنے کے لئے ہفتے میں کئی بار اس اسٹیڈیم جانا ہوتا اور آتے جاتے ہوئے کبھی کبھار ہی لان ٹینس کورٹ میں کوئی کھلاڑی دکھائی دیتا۔ 90ء کی دہائی میں مجھے یہ کھیل بہت نامانوس لگتا تھا۔ لندن آنے کے بعد ایک بار جب میں اپنے پسندیدہ ادیب اور شاندار براڈ کاسٹر رضا علی عابدی سے ملنے کے لئے ویمبلڈن پہنچا تو اسٹیشن پر غیر معمولی رش تھا۔ یہ موسم گرما کے دن تھے اور جولائی کا مہینہ تھا۔ ہنستے مسکراتے لوگ اسٹیشن سے نکل کر ویمبلڈن کے لان ٹینس کورٹس کی طرف رواں دواں تھے۔ خوشگوار موسم کا اثر ٹینس کے شائقین کے چہروں پر بھی نمایاں تھا۔ اس روز مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ لان ٹینس کا کھیل برطانیہ میں کس قدر مقبول ہے۔ ساؤتھ ویسٹ لندن کے علاقے ویمبلڈن میں ہر سال جب ٹینس کا عالمی ٹورنامنٹ منعقد ہوتا ہے تو برطانوی دارالحکومت کی رونقوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یونائیٹڈ کنگڈم کے علاؤہ دنیا کے مختلف حصوں سے لوگوں کی بڑی تعداد اس ٹورنامنٹ میں اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو کھیلتے ہوئے دیکھنے اور اُن کی حوصلہ افزائی کے لئے لندن آتی ہے اور اگر کوئی برطانوی کھلاڑی ٹورنامنٹ کے فائنل یا سیمی فائنل تک پہنچ جائے تو یو کے کی رائل فیملی کے اراکین کے علاؤہ برطانیہ کی بہت سی اہم اور نامور شخصیات بھی ویمبلڈن میں زینت افروز ہوتی ہیں۔ ویمبلڈن چیمپئن شپ دنیا بھر میں ٹینس کا سب سے قدیم ٹورنامنٹ شمار ہوتا ہے جس کا آغاز 1877ء یعنی 146برس پہلے ہوا۔ آج کل اس ٹورنامنٹ کے فاتح مرد کھلاڑی کو چاندی سے بنے شاندار کپ کے علاؤہ ساڑھے چار کروڑ پاؤنڈ کی خطیر رقم بھی انعام میں دی جاتی ہے۔ اب تک سب سے زیادہ بار اس ٹائیٹل کو سوئس کھلاڑی راجر فیڈررنے جیتا ہے۔ یعنی وہ آٹھ بار ویمبلڈن چیمپئن رہے ہیں۔ صرف ویمبلڈن چیمپئن شپ ہی نہیں انہوں نے یو ایس اوپن، آسٹریلین اوپن، فرنچ اوپن سمیت دنیا کے 20بڑے ٹینس ٹورنامنٹس میں چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ راجر فیڈ رر نے 11اپریل 2009ء میں ٹینس کی کھلاڑی میروس لاوا سے شادی کی۔ شادی کے بعد اُن کے ہاں پہلے دو جڑواں بیٹیاں اور پھر 2014ء میں دو جڑواں بیٹے پیدا ہوئے۔ 

خواتین کھلاڑیوں میں سب سے زیادہ بار ویمبلڈن ٹائیٹل جیتنے کا اعزاز چیک کھلاڑی مارٹینا نیورا ٹیلووا کے پاس ہے۔انہوں نے 9بار یہ ٹائیٹل اپنے نام کیا جبکہ انہوں نے تین بار آسٹریلین اوپن، 2بار فرنچ اوپن اور 4بار یو ایس اوپن کا ٹائیٹل بھی جیتا۔ ٹینس کا کھیل برطانیہ کی ہی ایجاد ہے جو گذشتہ 130برس سے ٹیلی ویژن پر بھی دکھایا جاتا ہے۔ اب تک برطانیہ کے کل 29ٹینس پلیئرز ایسے ہیں جنہوں نے 69بار ویمبلڈن چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا جن میں آخری بار اینڈی مرے نے 2016ء میں یہ ٹائیٹل جیتا تھا جبکہ وہ اس سے پہلے 2013ء میں بھی یہ اعزاز جیت چکے تھے جبکہ برطانوی کھلاڑی ورجینیا ویڈ نے آخری بار 1977ء میں خواتین کا سنگل ٹائیٹل حاصل کیا تھا۔ ویمبلڈن میں سب سے طویل دورانیے کا میچ 2010ء میں امریکی کھلاڑی جان اسنر اور فرانسیسی پلیئر نکولس ماہوٹ کے درمیان ہوا جو گیارہ گھنٹے اور پانچ منٹ تک جاری رہا۔ ویمبلڈن ٹورنامنٹ کے لئے ہر سال 250سے زیادہ لڑکے اور لڑکیاں بال بوائز اور بال گرلز کے طور پر متعین کیے جاتے ہیں جو کھلاڑیوں کے لئے بال سروس کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ ویمبلڈن میں شریک کھلاڑیوں کے لئے لازمی ہے کہ وہ سفید یونیفارم پہنیں۔ ویمبلڈن دنیا کا واحد ٹورنامنٹ ہے جو قدرتی گھاس کے کورٹ میں کھیلا جاتا ہے۔ اس سال 16جولائی کو ویمبلڈن ٹورنامنٹ کا فائنل سپین کے 19سالہ کھلاڑی کارلوس الکراز گارفیاCARLOS ALCARAZ GARFIAنے جیت کر سب کو حیران کر دیا۔ اگرچہ پچھلے برس یو ایس اوپن کا ٹائیٹل جیتنے کے بعد اُن کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ مستقبل کے ورلڈ نمبر 1ہوں گے لیکن کم لوگوں کو یہ توقع تھی کہ 2023ء میں وہ ویمبلڈن چیمپئن نو واک ڈجوکووچ کو شکست دے کر ٹینس کی دنیا کے ہیرو بن جائیں گے۔ نوواک آٹھویں بار ویمبلڈن میں اپنے ٹائیٹل کا دفاع کر رہے تھے اور ٹورنامنٹ کے فیورٹ پلیئر تھے لیکن نوجوان کارلوس نے انہیں کانٹے دار مقابلے کے بعد ہرا دیا اور پہلی بار دنیا کے کم عمر ترین ویمبلڈن چیمپئن بن گئے۔ 

کارلوس الکراز نے 16برس کی عمر سے ٹینس کے پروفیشنل مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ اُن کے والد نے اپنے بیٹے کی تربیت میں بہت اہم کردار ادا کیا جو کہ خود بھی سپین کی ایک ٹینس اکیڈمی میں ڈائریکٹر ہیں۔ ویمبلڈن مین کل 18ٹینس کورٹس ہیں جن میں سنٹرل کورٹ فائنل کے لئے مختص ہوتا ہے جہاں 14979لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جبکہ اس سال پورے ٹورنامنٹ کو 8مختلف کورٹس میں تقریباً ڈھائی لاکھ سے زیادہ تماشائیوں نے براہِ راست دیکھا جبکہ ٹیلی ویژن پر اس ٹورنامنٹ کے فائنل کو دیکھنے والوں کی تعداد کروڑوں میں تھی۔ ویمبلڈن چیمپئن کو برطانوی ولی عہد پرنس ولیم کی اہلیہ کیٹ میڈلٹن نے ونرز کپ دیا۔ فائنل میچ کے تماشائیوں میں ہالی وڈ کے سٹار اداکار بریڈ پٹ، ڈینیل کریگ اور ایما واٹسن کے علاؤہ اور بہت سی مشہور شخصیات شامل تھیں۔ اس سال خواتین کا ویمبلڈن ٹائیٹل چیک ری پبلک کی کھلاڑی مارکیٹا ونڈروسوا MARKETA VONDROUSOVAنے جیتا۔ 24سالہ مارکیٹا کی یہ کسی بڑے ٹورنامنٹ میں پہلی بڑی کامیابی ہے۔ اس سے پہلے وہ ٹینس کی ورلڈ رینکنگ میں 14ویں نمبر پر تھیں۔ ویمبلڈن کا ٹائیٹل جیتنے کے لئے فائنل میچ میں انہوں نے تیونس کی کھلاڑی اونز جیبور ONS JABEURکو شکست دی۔ اس سال ویمبلڈن ٹینس ٹورنامنٹ 3سے 16جولائی یعنی 13روز تک جاری رہا۔ اس دوران لندن میں خوب گہما گہمی اور رونق رہی۔ ملک کے طول و عرض میں لاکھوں لوگ اچھے اچھے موسم میں اچھے کھیل سے لطف اندوز ہوئے۔ لان ٹینس کو ایک جینٹلمین گیم سمجھا جاتا ہے۔ اس کھیل کو دیکھنے اور کھیلنے والے خاص نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ 16جولائی فائنل میچ کو سنٹرل کورٹ میں 15ہزار لوگ براہِ راست دیکھ رہے تھے لیکن کھیل کے دوران صرف گیند کے ریکٹ سے ٹکرانے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ یہ سناٹا صرف اس وقت تماشائیوں کی موجودگی کا احساس دلاتاتھا جب کوئی کھلاڑی اچھی شاٹ کھیل کر پوائنٹ حاصل کرتا تھا۔ کھیل ہمیں نظم وضبط سکھاتے ہیں۔ جن لوگوں نے آجکل پاکستان میں سیاست کو کھیل بنا رکھا ہے۔ کاش وہ کھیل کے نظم و ضبط کو ہی ملحوظ خاطر رکھیں۔

٭٭٭