Warning: Undefined array key "geoplugin_countryName" in /customers/9/f/a/urdunama.eu/httpd.www/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341

سویڈش شہر سٹاک ہوم میں مجلس شب عاشورہ

ارودونامہ ویب ڈیسک ( انصر اقبال بسرا سٹاک ہوم سویڈن) پاک حسینی سنٹر  سٹاک ہوم کے زیراہتمام فتییا میں یکم محرم سے لیکر شب عاشورہ تک مجلس عزاء کا انقعاد کیا گیا مجلس کا باقائدہ آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول سے کیاگیا جس میں پاکستان کی مذہبی ،سیاسی ، سماجی صحافتی  اور مومنین نے بھرپور شرکت کی مجلس سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سید زوار حسین نقوی کا کہنا تھا  نواسہ رسول سیدالشہداء امام عالی مقام  کسی خاص مکتب فکر کے نہیں بلکہ پوری امت کے ہادی پیشوا اورامام ہیں آپ کی شہادت کا مقصد ذات،مفادات،شہرت،دولت ،حکومت یا نمو دو نمائش نہیں بلکہ اصلاح امت اور فلاح امت تھا حضرت امام عالی مقام کی شہادت کا پہلا پیغام عملی جدوجہد کا پیغام ہے۔ محبت حسین رضی اللہ عنہ کو فقط رسمی نہ رہنے دیا جائے بلکہ اسے اپنے عمل و حال و قال میں شامل کرلیا جائے اور اپنی زندگی کا مقصد بنایا جائے، یعنی معلوم کیا جائے کہ یزیدی کردار کیا ہے اور حسینی کردار کیا ہے یزید نے کھلم کھلا اسلام کا انکار نہیں کیا تھا اور نہ ہی بتوں کی پوجا کی تھی، مسجدیں بھی مسمار نہیں کی تھیں۔ وہ اسلام کا نام بھی لیتا تھا، وہ یہ بھی کہتا تھا کہ میں نماز بھی پڑھتا ہوں، میں مسلمان بھی ہوں، میں موحد بھی ہوں، میں حکمران بھی ہوں، میں آپ کا خیر خواہ بھی ہوں۔ اسلام کا انکار یہ تو ابوجہلی ہے، ابولہبی ہے۔ یزیدی کردار یہ ہے کہ مسلمان بھی ہو اور اسلام سے دھوکہ بھی کیا جائے، امانت کی دعویٰ بھی ہو اور خیانت بھی کی جائے، نام اسلام کا لیا جائے اور آمریت بھی مسلط کی جائے۔ اپنے سے اختلاف کرنے والوں کو کچلا جائے۔ 

اسلام سے دھوکہ فریب یزیدیت کا نام ہے۔ بیت المال میں خیانت کرنا، دولت کو اپنی عیش پرستی پر خرچ کرنا یزیدیت کا نام ہے۔ معصوم بچوں اور بچیوں کے مال کو ہڑپ کرنا یزیدیت کا نام ہے۔ مخالف کو کچلنا اور جبراً بیعت اور ووٹ لینا یزیدیت کا نام ہے آج روح حسین رضی اللہ عنہ ہم سے پکار پکار کر کہتی ہے کہ ”میری محبت کا دم بھرنے والوں میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ میری محبت رسمی ہے یا پھر آج تم کوئی معرکہ کربلا برپا کرتے ہو۔ میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ میری محبت میں پھر تم آج کے وقت یزیدیوں کو للکارتے ہو یا نہیں۔ روح حسین رضی اللہ عنہ آج پھر دریائے فرات کو رنگین دیکھنا چاہتی ہے، آج تمہارے صبر و استقامت کا امتحان لینا چاہتی ہے۔ کہ کون اسلام کا جھنڈا سربلند کرتے ہوئے تن من دھن کی بازی لگاتا ہے، کون ہے جو مجھ سے حقیقی پیار کرتا ہے۔حسینیت کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں جہاں تمہیں یزیدیت کے کردار کا نام و نشان نظر آئے حسینی لشکر کے غلام و فرد بن کر یزیدیت کے بتوں کو پاش پاش کردو۔ اس کے لیے اگر تمہیں مال، جان، اور اپنی اولاد ہی کیوں نہ قربان کرنی پڑے مجلس کے اختتام میں وسیم شاہ نے نوح پڑھا اور مومنین نے ماتم کیا اور آخر میں امت مسلمہ اور شہداء کربلا کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گی رانا یاسین نے یکم محرم سے لیکر شب عاشورہ تک آنے والے مومنین کا شکریہ ادا کیا۔